اسلام آباد ۔ 22 اپریل (اے پی پی) الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومتوں کی جانب سے قوانین، نقشہ جات اور دیگر دستاویزات کی عدم فراہمی پر سست روی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انہیں ہدایت کی ہے کہ صوبوں میں بلدیاتی انتخابات یقینی بنانے کےلئے یہ دستاویزات فوری فراہم کی جائیں جبکہ کمیشن نے 5 سالہ منصوبے کے اہداف کو یقینی بنانے کےلئے تمام شعبوں کے سربراہان کو ان کی …
صوبائی حکومتیں بلدیاتی انتخابات یقینی بنانے کے لئے قوانین، نقشہ جات اور دیگر دستاویزات فوری فراہم کریں، الیکشن کمیشن

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 اپریل (اے پی پی) الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومتوں کی جانب سے قوانین، نقشہ جات اور دیگر دستاویزات کی عدم فراہمی پر سست روی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انہیں ہدایت کی ہے کہ صوبوں میں بلدیاتی انتخابات یقینی بنانے کےلئے یہ دستاویزات فوری فراہم کی جائیں جبکہ کمیشن نے 5 سالہ منصوبے کے اہداف کو یقینی بنانے کےلئے تمام شعبوں کے سربراہان کو ان کی تکمیل بروقت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ بدھ کو چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے حوالہ سے الیکشن کمیشن کا اجلاس ہوا۔ الیکشن کمیشن نے اب تک الیکشن کمیشن اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا چونکہ الیکشن ایکٹ 2017ءکی رو سے بلدیاتی انتخابات 120 دن کے اندر کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، بہرحال الیکشن کمیشن نے ملک میں کورونا وائرس کی وباءکو مدنظر رکھتے ہوئے صوبوں میں لوکل گورنمنٹ انتخابات کے انعقاد کا جائزہ لیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے حکومت پنجاب کو بارہا کہا کہ حلقہ بندیوں کیلئے نقشہ جات و دیگر ضروری دستاویزات فوری فراہم کی جائیں تاکہ پنجاب ویلج پنچایت و نیبر ہڈ کی حلقہ بندیوں کے کام کا آغاز کیا جا سکے مگر تاحال مطلوبہ دستاویزات و نقشہ جات کی فراہمی نہ ہو سکی، اسی طرح خیبرپختونخوا صوبہ کے بلدیاتی ایکٹ 2019ءمیں کئی قسم کی ترامیم دی گئیں مگر ان کے تحت نہ تو رولز فراہم کئے گئے اور نہ ہی حلقہ بندیوں کیلئے درکار ضروری دستاویزات جیسا کہ سٹی کونسلز کی حدود کا نوٹیفکیشن، تحصیل کی ترتیب سے ویلج اور نیبر ہڈ کونسلز کی تعداد کا نوٹیفکیشن، تحصیل کی ترتیب سے ویلج اور نیبر ہڈ کونسلز کی تعداد کا نوٹیفکیشن، حلقہ بندیوں کے رولز وغیرہ مہیا نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے لوکل گورنمنٹ الیکشن کا بروقت انعقاد ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح صوبہ سندھ کی مقامی حکومتوں کی میعاد اگست 2020ءمیں ختم ہونے جا رہی ہے تاہم الیکشن کمیشن نے حکومت سندھ کو بھی مراسلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ترمیم شدہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ءرولز کی نقول اور حلقہ بندیوں کیلئے درکار یونین کونسلز و تحصیلوں کی تعداد کا نوٹیفکیشن و دیگر دستاویزات و نقشہ جات فراہم کئے جائیں، ابھی تک صوبائی گورنمنٹ کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ صوبہ بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے کا معاملہ چونکہ ہائی کورٹ بلوچستان میں زیر التواءہے تو اس بابت بلوچستان حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ بلدیاتی ایکٹ 2010ءرولز کی ترمیم شدہ کاپی فراہم کرے۔ الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومتوں کی طرف سے سست روی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ لوکل گورنمنٹ انتخابات کے وقت پر انعقاد کیلئے فوری مناسب اقدامات اٹھائیں اور الیکشن کمیشن کو فوری قوانین، رولز، نقشہ جات اور دیگر دستاویزات مہیا کریں تاکہ الیکشن کمیشن صوبوں میں انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنا سکے۔ اجلاس میں الیکشن کمیشن کے پانچ سالہ منصوبہ پر عملدرآمد کے سلسلہ میں بھی الیکشن کمیشن کے تمام شعبوں کے سربراہوں نے اپنے اپنے شعبوں کی کارکردگی کے حوالہ سے الیکشن کمیشن کو بریفنگ دی۔ الیکشن کمیشن نے تمام شعبہ جات کے سربراہان کو ہدایات جاری کیں کہ پانچ سالہ منصوبے میں درج اہداف کو بروقت مکمل کیا جائے تاکہ آئندہ الیکشن کا انعقاد مزید منظم اور بہتر طریقہ سے کیا جا سکے۔







