بعض شرائط کے ساتھ لاک ڈاﺅن کو بتدریج کھولا جائے گا، وزیراعظم عمران خان کا کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کے رضاکاروں سے خطاب

اسلام آباد ۔ 4 مئی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بعض شرائط کے ساتھ لاک ڈاﺅن کو بتدریج کھولا جائے گا کیونکہ ہمیں اپنے عوام کو کورونا سے بھی بچانا ہے اور بیروزگاری اور بھوک کے ہاتھوں مرنے سے بھی بچانا ہے، اس مشکل وقت میں رضاکار ٹائیگر فورس کا کردار کلیدی حیثیت کا حامل ہے، یہ فورس ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے، عوام …

اسلام آباد ۔ 4 مئی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بعض شرائط کے ساتھ لاک ڈاﺅن کو بتدریج کھولا جائے گا کیونکہ ہمیں اپنے عوام کو کورونا سے بھی بچانا ہے اور بیروزگاری اور بھوک کے ہاتھوں مرنے سے بھی بچانا ہے، اس مشکل وقت میں رضاکار ٹائیگر فورس کا کردار کلیدی حیثیت کا حامل ہے، یہ فورس ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے، عوام میں آگاہی اور شعور پیدا کرنے اور حکومتی پالیسیوں کے نفاذ میں ضلعی انتظامیہ کی معاونت کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کے رضاکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار، معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور دیگر بھی موجود تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کے قیام کا فیصلہ میں نے کیا کیونکہ ہمارے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے، انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایک وبا پھوٹ پڑی ہے جس کے باعث پوری دنیا ایسے اقدامات کر رہی ہے جو گزشتہ سو سال میں نہیں کیے گئے، اس وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لاک ڈاﺅن کرنا پڑا جس کیوجہ سے عام آدمی پر اثرات پڑے، اور اس سے دیہاڑی دار اور چھابڑی فروش، تنخواہ دار سمیت بہت بڑی تعداد میں عام لوگ متاثر ہوئے، ہمارا ملک جو پہلے ہی مشکل میں تھا اس میں یہ مسئلہ اور بھی زیادہ سنگین ہے جبکہ امیر ملکوں کو بھی اس وقت مشکلات کا سامنا ہے، برطانیہ جیسے ملک میں وزیراعظم نے رضاکاروں سے درخواست کی اور اڑھائی لاکھ لوگوں نے وزیراعظم کی اپیل پر خود کو رجسٹر کرایا، انہوں نے کہا کہ قوم کو مشکل وقت میں ایسے لوگوں کی مدد کی ضرورت ہے جو انتظامیہ اور عوام کی مدد کرسکیں، انتطامیہ کے پاس اتنی بڑی تعداد میں عملہ نہیں کہ مساجد میں ایس او پیز، کھانے کی تقسیم سمیت حکومتی اقدامات اور پالیسیوں پر عمل درآمد کا تمام کام خود کرسکے اس لیے رضاکار ٹائیگر فورس کی ضرورت محسوس کی، یہ فورس مشکل وقت میں جہاد کرے گی، وزیراعظم نے کہا کہ جب میں شوکت خانم ہسپتال کے لئے پیسہ جمع کرنے نکلا تو بہت بڑا ہدف سامنے تھا اور سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ کیسے پورا ہوگا لیکن پھر کسی نے مجھے مشورہ دیا کہ سکول کے بچوں کو اس کام میں شامل کیا جائے، میں نے عمران ٹائیگر فورس بنائی اور سکول کے بچوں کے ذریعے مہم چلائی تو اتنا پیسہ جمع ہوا کہ ہم ہسپتال بنانے میں کامیاب ہوئے، جہاں پچھتر فی صد مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے جبکہ کینسر کا علاج مہنگا ترین ہے، اب بھی ایک مشکل وقت ہے جس سے نمٹنے کیلئے رضاکار فورس بنائی ہے، لاک ڈاﺅن سے دیہاڑی دار اور نچلا طبقہ کم تنخواہ دار لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں ، لاک ڈاﺅن آہستہ آہستہ کھولنا ہے ،خدشہ ہے کہ کہیں اس سے لوگ اس انداز میں جمع ہونا نہ شروع ہوجائیں کہ کورونا پھر تیزی سے پھیلنے لگے اور اس کے نتیجے میں کہیں دوبارہ لاک ڈاﺅن کی طرف نہ جانا پڑے، اسی لیے رضاکار فورس بنائی گئی تاکہ رضا کار اپنے اپنے علاقوں میں عوام میں اس حوالے سے آگاہی اور شعور پیدا کریں ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنائیں ، مساجد ، مارکیٹوں ، بازاروں، فیکٹریوں اور کاروبار کی جگہوں پر فاصلے اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کرانے میں معاونت کریں کیونکہ ہمیں اپنے عوام کو کورونا سے بھی بچانا ہے اور بیروزگاری اور بھوک کے ہاتھوں مرنے سے بھی بچانا ہے، ہمیں توازن قائم کرنا ہے،اس سلسلے میں یہ فورس ہماری معاونت کرے گی، یہ فورس رضا کارانہ طور پر کام کرے گی، انہیں کسی قسم کے پیسے نہیں دیئے جائیں گے، ان کا کام انتظامیہ کے ساتھ مل کر مدد کرنا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یونین کونسل میں رضاکاروں کی ڈیسک قائم کیا جائے گا جہاں بیروزگاروں کی رجسٹریشن کی جائے گی کیونکہ تمام بیروز گار افراد خود سے فارم فل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ جانچ پڑتال کے بعد ان افراد کو نقد امداد فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ رضاکار فورس کے جوان جہاں بھی ذخیری اندوزی دیکھیں تو ضلعی انتظامیہ کو اس کی اطلاع دیں۔ خود سے کاروائی نہیں کریں۔ ضلعی انتظامیہ ضروری کاروائی کرے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ٹائیگر فورس یوٹیلیٹی سٹورز میں بھی مانیٹرنگ اور چیکنگ کرے گی تاکہ اشیائے ضروریہ کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے اور ایسا نہ ہو کہ کہیں ماضی کی طرح کوئی اور فائدہ اٹھاتا رہے۔ وزیرا عظم نے فورس کے لئے خود کو رجسٹرڈ کرانے والے رضاکاروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی سب سے زیادہ ضرورت لاک ڈاﺅن کو کھولتے وقت ہے تاکہ جن شرائط کے تحت یہ لاک ڈاﺅن کھولا جائے گا اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے تاکہ ملک مشکل صورتحال سے نکلے۔ کورونا سے بھی بچاﺅ ممکن ہو اور روزگار کا سلسلہ بھی چلتا رہے۔ وزیرا عظم نے کہا کہ عوام میں آگہی اور شعور پیدا کرنے کے علاوہ ایس او پیز پر عملدرآمد رضاکاروں کی معاونت سے ہی ممکن ہو گی۔ وزیر اعظم نے ضلعی انتظامیہ کو بھی ہدایت کی کہ وہ ٹائیگر فورس جو ان کی معاونت کے لئے بنائی گئی ہے سے فائدہ اٹھائیں اور اس فورس کو ساتھ لے کر چلیں اور ان سے بہترین طریقے سے کام لیں۔ اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار، وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا، یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے چیئرمین ذوالقرنین علی خان نے وزیر اعظم کواب تک کئے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔