اسلام آباد ۔ 4 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز سے برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنر نے پیر کو یہاں ملاقات کی جس میںدونوں ممالک کے مابین اطلاعات اور میڈیا کے شعبے میں موجودہ تعاون کو بڑھانے کی کوششوں پر زور دیا گیا ‘ ملاقات میں کوویڈ 19 وبائی مرض کے بارے میں وسیع پیمانے پر آگاہی پیدا کرنے کے لئے وسیع کوششوں …
پاکستان اور برطانیہ کے مابین خوشگوار تعلقات ہیں ‘دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں کو مزید تقویت دی جائے گی‘ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 4 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز سے برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنر نے پیر کو یہاں ملاقات کی جس میںدونوں ممالک کے مابین اطلاعات اور میڈیا کے شعبے میں موجودہ تعاون کو بڑھانے کی کوششوں پر زور دیا گیا ‘ ملاقات میں کوویڈ 19 وبائی مرض کے بارے میں وسیع پیمانے پر آگاہی پیدا کرنے کے لئے وسیع کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اس سے مہلک بیماری سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ موثر مواصلاتی حکمت عملی کا استعمال رویے کی تبدیلی کے لئے ایک لازمی شرط ہے جو کوویڈ 19 کے مقابلے میں مدد کرسکتی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اس کے تجزیئے کے ساتھ برطانوی ہائی کمیشن کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس ایک عالمی چیلنج ہے جسے عالمی سطح پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پیغام رسانی کی مہم تمام ذرائع ابلاغ کے ذریعے عوام تک پہنچائی جائے گی تا کہ ضروری حفاظتی اقدامات کو اپنانے کے لئے آگاہی پیدا ہوسکے۔ برطانوی ہائی کمشنر نے وفاقی وزیر کو برطانیہ میں کورونا وائرس کی صورتحال کے حوالے سے بریفنگَ دیتے ہوئے بتایا کہ وبائی امراض کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر لوگوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی سائنس دان اور طبی ماہرین اینٹی کورونا ویکسین تیار کرنے کے لئے ٹھوس کوششیں کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے مابین خوشگوار تعلقات ہیں ‘دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں کو مزید تقویت دی جائے گی۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ حکومت آزاد میڈیا پر پختہ یقین رکھتی ہے اور وہ خود ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو اظہار رائے کی آزادی کا حامی ہے۔ وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات اکبر درانی اور دیگر اعلی عہدیدار اس ملاقات میں شریک تھے۔








