سینئر بھارتی سفارتکار کی دفتر خارجہ طلبی،گلگت بلتستان کے حوالے سے بھارت کا جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا مسترد ، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد ۔ 4 مئی (اے پی پی) بھارت کے سینئر سفارتکار کو پیر کے روز دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور گلگت بلتستان سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے حوالے سے بھارت کے جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو ”اٹوٹ انگ“ قرار دینے سے متعلق بھارت کے دعوے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں …

اسلام آباد ۔ 4 مئی (اے پی پی) بھارت کے سینئر سفارتکار کو پیر کے روز دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور گلگت بلتستان سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے حوالے سے بھارت کے جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو ”اٹوٹ انگ“ قرار دینے سے متعلق بھارت کے دعوے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ پوری ریاست جموں وکشمیر ایک بین الاقوامی تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے جو کئی دہائیوں سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں تصفیہ طلب ہے اور جس پر بھارت نے کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف 1947ءسے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت کا کوئی بھی غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام جموں و کشمیر کی حیثیت کو ایک متنازعہ علاقے کی حیثیت سے تبدیل نہیں کرسکتا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ کشیری عوام کے امنگوں کے مطابق اقوام متحدہ کے تحت آزادانہ، غیرجانبدارانہ رائے اور جمہوری طریقہ سے استصواب رائے کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ ترجمان نے بھارتی سفارتکار پر زور دیا کہ گلگت بلتستان کے بارے میں بے بنیاد بھارتی تنازعہ نہ تو بھارتی قابض افواج کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ، نہتے کشمیریوں پر مظالم کی پردہ پوشی کرسکتا ہے اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے عالمی برادری کی توجہ ہٹا سکتا ہے۔ ترجمان نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر پر غیرقانونی قبضہ ختم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور وہاں اپنی تمام غیر قانونی کارروائیوں کو فی الفور بند کرے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت کا استعمال کرنے کا حق دیا جائے۔