جنیوا ۔ 5 مئی (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او ) نے کہا ہے کہ امریکہ نے نیا کورونا وائرس ایک چینی لیب سے شروع ہونے بارے ابھی تک کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے ۔ اورامریکی صدر کی ان قیاس آرائیوںکے دعووں کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے کہ نیا کورونا وائرس ایک چینی لیب سے شروع ہوا ہے۔ڈبلیو ایچ او کی ایمرجنسی …
امریکہ نے نیا کورونا وائرس ایک چینی لیب سے شروع ہونے بارے ابھی تک کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے، عالمی ادارہ صحت

مزید خبریں
جنیوا ۔ 5 مئی (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او ) نے کہا ہے کہ امریکہ نے نیا کورونا وائرس ایک چینی لیب سے شروع ہونے بارے ابھی تک کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے ۔ اورامریکی صدر کی ان قیاس آرائیوںکے دعووں کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے کہ نیا کورونا وائرس ایک چینی لیب سے شروع ہوا ہے۔ڈبلیو ایچ او کی ایمرجنسی کے ڈائریکٹر مائیکل ریان نےورچوئل بریفنگ میں بتایا کہ ہمیں وائرس کے آغاز سے متعلق ریاست ہائے متحدہ کی حکومت کی طرف سے کوئی اعداد و شمار یا کوئی خاص ثبوت نہیں ملا ہے۔ لہذا ہمارے نقطہ نظر سے کورونا وائرس ایک چینی لیب سے شروع ہونے کے دعوے محض قیاس آرائیاں ہیں۔ ریان نے کہا کہ وائرس کی ابتدا بارے ثبوت پر مبنی ایسی کسی بھی معلومات کو حاصل کرنے کے لئے ہم بھی دوسرے اداروں کی طرح رضامندہوں گے ۔ریان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ "مستقبل کے کنٹرول کے لئے صحت عامہ کی معلومات کا ایک بہت اہم حصہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ اعداد و شمار اور شواہد دستیاب ہیں تو ، پھر یہ فیصلہ کرنا امریکی حکومت کاکام ہے کہ یہ شواہد عالمی ادارہ صحت کو کب دیئے جاسکتے ہیں تاہم اس ضمن میں شواہد پر مبنی معلومات کے بغیر کوئی کام کرنا عالمی ادارہ صحت کے لئے مشکل ہے۔”








