حکومت نے کورونا وائرس کی صورتحال میں بروقت فیصلے کئے جو پوری دنیا کیلئے مثال بنے اس پر قوم کو فخر کرنا چاہیے،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی انٹرویو

اسلام آباد ۔ 5 مئی (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ حکومت نے کورونا وائرس کی صورتحال میں بروقت فیصلے کئے جو پوری دنیا کیلئے مثال بنے اس پر قوم کو فخر کرنا چاہیے، سندھ اور وفاق میں لاک ڈاﺅن پر نقطہ نظر کا اختلاف ہے، صورتحال کو دیکھ کر لاک ڈاﺅن میں نرمی کا فیصلہ کیا جائے گا، پاکستان میں دوسرے ممالک کے …

اسلام آباد ۔ 5 مئی (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ حکومت نے کورونا وائرس کی صورتحال میں بروقت فیصلے کئے جو پوری دنیا کیلئے مثال بنے اس پر قوم کو فخر کرنا چاہیے، سندھ اور وفاق میں لاک ڈاﺅن پر نقطہ نظر کا اختلاف ہے، صورتحال کو دیکھ کر لاک ڈاﺅن میں نرمی کا فیصلہ کیا جائے گا، پاکستان میں دوسرے ممالک کے مقابلے میں کورونا کیسز اور اموات کی شرح کم ہے، ویکسین کے آنے میں ایک سال لگ سکتے ہیں اسلئے عوام کو چاہیے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، جو قومیں نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتی ہیں وہ جلدی ترقی کرتی ہیں، امید ہے کہ موجودہ بحران سے نکلنے کے بعد ہم ایک مضبوط قوم بن کر ابھریں گے، ایل او سی پر بھارتی جارحیت اور بھارت کا مسلمانوں کو کورونا کے پھیلاﺅ کا ذمہ دار قرار دینے کی مذمت کرتے ہیں۔ منگل کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے صدر مملک نے کہا کہ پوری دنیا میں اس وقت لاک ڈاﺅن کے حوالے سے بحث جاری ہے، معاشرے میں بھوک بڑھے گی تو سماجی فاصلے کی خلاف ورزی ہو گی اسلئے لاک ڈاﺅن میں نرمی کا فیصلہ صورتحال دیکھ کر کیا جائے گا، وفاق اور صوبوں نے اچھے طریقے سے وباءکو ہینڈل کیا اور آگے بھی وہ صورتحال کو دیکھ کر فیصلے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام میں سماجی فاصلے کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے، حکومت نے کورونا صورتحال میں ملک کے پسے ہوئے لوگوں کو سہولیات دینے کیلئے تاریخی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جو دنیا کیلئے مثال بنا، احساس پروگرام کے ذریعے غریب لوگوں کو مزید ریلیف دیا جائے گا۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ مساجد میں تراویح کی اجازت کا فیصلہ علماءکے اجماع پر کیا گیا، پنڈی اور اسلام آباد میں مختلف مساجد کا اچانک دورہ کیا تو میں نے دیکھا کہ 70 فیصد مساجد میں ضابطہ اخلاق پر عمل کیا جا رہا ہے، حکومت نے مساجد میں تراویح پڑھنے کی مشروط اجازت دی تھی کہ اگر ایس او پیز پر عمل نہ کیا گیا تو فیصلے پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر سمیت تمام وزرائے اعلی سے میری بات ہوئی تو انہوں نے بھی بتایا کہ زیادہ تر مساجد میں ایس او پیز پر عمل کیا جا رہا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ لوگ بغیر کسی دباﺅ اور سختی کے ایس او پیز کی پیروی کر رہے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ملک صحیح سمت کی جانب گامزن ہے اور کورونا بحران سے نجات حاصل کرنے کے بعد ہم ایک مضبوط قوم بن کر ابھریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حفاظی تدابیر پر عمل درآمد کرانا صرف حکومت کا نہیں بلکہ ہر شہری کا فرض ہے، ٹائیگر فورس بھی بہتر طریقے سے وائرس سے متعلق لوگوں کو آگاہی فراہم کر سکتی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ن لیگ بھی تسلیم کر چکی ہے کہ 18ویں ترمیم میں سقم اور ایشوز ہیں، تمام صوبے اتفاق کریں تو جمہوری انداز سے اس میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اپوزیشن خود پارلیمنٹ کے اجلاس کے حوالے سے بحث کر رہی ہے، ایس او پیز کے تحت اجلاس بلایا جا سکتا ہے اور ارکان اسمبلی کیلئے ضروری ہے کہ وہ سماجی فاصلے کا خیال رکھیں تاکہ عوام بھی انہیں فالو کرے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ارکان اسمبلی کو خط لکھا ہے کہ پسے ہوئے طبقے کے لوگوں کا خیال رکھیں تاکہ کوئی بھوکا نہ رہ جائے، راشن کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، منتخب نمائندوں کے پاس ملک کی خدمت کا بہترین موقع ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ایل او سی پر بھارتی فوج کی جارحیت بڑھ رہی ہے اور معصوم لوگ شہید ہو رہے ہیں جو کہ افسوسناک ہے، بھارت کا مسلمانوں کو کورونا کے پھیلاﺅ کا ذمہ دار قرار دینے کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ رواں ماہ مہلک وباءکے کیسز کی تعداد بڑھے گی، ابھی تک کورونا کی ویکسین اور علاج دریافت نہیں ہوا اسلئے لوگوں کو چاہیے کہ سماجی فاصلے کا خیال رکھیں، کثرت کے ساتھ ہاتھ دھوئیں، ماسک پہنیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ صدر مملکت نے کہا کہ میری دعا ہے کہ جلد ہی ملک سے اس وباءکا خاتمہ ہو تاکہ ایسی نوبت نہ آئے کہ ہسپتالوں میں مریضوں کو سنبھالنا مشکل ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے چاروں صوبوں میں ہسپتالوں اور قرنطینہ سینٹرز کا دورہ کیا، 99 فیصد سہولیات موجود ہیں تاہم اس کے باوجود ضروری ہے کہ لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ڈاکٹر فرقان کی موت افسوسناک واقعہ ہے، یہ سماجی، معاشرتی اور ایڈمنسٹریٹیو سسٹم کی نااہلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ کورونا کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، وہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر مریضوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں جس پر انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔ صدر مملکت نے کہا کہ ڈیم فنڈ کے حوالے سے جعلی خبر سے بحران پیدا کیا گیا، ڈیم فنڈ پرافٹ بیئرنگ اکاﺅنٹ میں جمع ہے اور اسے کورونا کیلئے استمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید خبریں