اسلام آباد ۔ 5 مئی (اے پی پی) جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے ممالک کو کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے باہمی تجربات اور اہم اسباق ایک دوسرے تک پہنچانے کے لیے تعاون کا سلسلہ تیز تر کرنا چاہئے، کئی رکاوٹوں کے باوجود سارک کا ادارہ بدستور اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور صحت، غذائی تحفظ اور سماجی تحفظ کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے …
جنوبی ایشیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام”کوویڈ۔19 اور جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون“ کے عنوان سے آن لائن مکالمے کے دوران اظہارخیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 مئی (اے پی پی) جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے ممالک کو کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے باہمی تجربات اور اہم اسباق ایک دوسرے تک پہنچانے کے لیے تعاون کا سلسلہ تیز تر کرنا چاہئے، کئی رکاوٹوں کے باوجود سارک کا ادارہ بدستور اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور صحت، غذائی تحفظ اور سماجی تحفظ کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے حوالے سے تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے ان خیالات کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام’کووڈ۔19 اور جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون‘ کے زیر عنوان آن لائن مکالمے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ڈیکن یونیورسٹی آسٹریلیا کے ریسرچ فیلو ڈاکٹر زاہد شہاب نے کہا کہ کووڈ۔19نے سارک ممالک کو باہمی تعاون شروع کرنے کا موقع دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غذائی اشیاءکی بہم رسانی، ذرائع روزگار اور ویکسین کی فراہمی سمیت کئی شعبوں میں تعاون کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ’سارک ورچول سمٹ‘ کا انعقاد کیا جانا چاہئے۔ ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد قیوم سلہری کا کہنا تھا کہ کورونا کی وجہ سے پیدا ہونے والا بحران ہمیں روایتی سوچ ترک کرنے کی اہمیت سے آگاہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج ہمیں جسمانی طور پر ہی عدم تحفظ کا سامنا نہیں بلکہ مہلک وبا، غذا کی عدم فراہمی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سمیت کئی طرح کے عدم تحفظ درپیش ہیں جن کا مقابلہ مل کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں زندگیاں بچانے کے ساتھ ساتھ روزگار بچانا بھی اہم ہے اور اس ضمن میں تواز ن پیدا کرنے کے لیے باہمی تجربات سے سیکھا جا سکتا ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش کے ڈاکٹر راشد ال محمد تیتو میر نے کہا کہ کووڈ۔19نے ہمارے ترقیاتی ماڈلز کی قلعی کھول دی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ترقیاتی عمل لوگوں کی ضرورتوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر شاہین اختر نے کہا کہ موجودہ بحران میں خطے کے ممالک کو دیر پا امن پر توجہ دینی چاہئے۔ آبزرور ریسرچ فاو¿نڈیشن، بھارت، کے ڈاکٹر نرنجن ساہو نے اپنی گفتگو میں کہا کہ سارک اب بھی ایسے کئی پلیٹ فارم مہیا کر سکتا ہے جن کی بدولت کم ازکم صحت اور سماجی شعبے میں تعاون میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ دی اوپن یونیورسٹی سری لنکا کے ڈاکٹر انتن پیا رتنے کا کہنا تھا کہ جنوب ایشیائی ممالک کو کورونا وائرس کے پیش نظر تعاون کی قلیل مدتی اور وبا کے بعد طویل مدتی تعاون کی جہتیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پرسینٹر فار سوشل چینج نیپال کے ڈاکٹرپرکاش بھٹاری، نے کہا کہ سارک ممالک وسیع باہمی تعاون شروع کرنے سے قبل کم ازم صحت، تعلی، اور سماجی شعبے میں تعاون عام کر سکتے ہیں۔ کولمبو یوینیورسٹی کے پروفیسر سری ہتیج کا کہنا تھا کہ سارک ممالک میں تعاون کے لیے ایسے اہداف رکھے جائیں، جن کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی کو پبلک پالیسی پر اثر انداز ہونے کے لیے کردار ادا کرنا چاہئے۔ یونیورسٹی آف آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے سیف اللہ ٹائے نے بھی موضوع کی مختلف جہتوں پر تفصیلی اظہار خیال کیا اور خصوصیت سے عالمی وبا اور افغانستان کی صورتحاپ پر روشنی ڈالتے ہوئے علاقائی تعاون میں اضافے پر زور دیا۔








