اسلام آباد ۔ 6 مئی (اے پی پی) چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی زیر صدارت بدھ کو اعلی سطح کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں سیکرٹری سینیٹ، سینیٹ انتظامیہ، سی ڈی اے اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے ریکوزیشن جمع ہونے کے بعد چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے اجلاس کے انعقاد کے انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے …
چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس ، اپوزیشن کی ریکوزیشن جمع ہونے کے بعد سینیٹ اجلاس کے انعقاد کے انتظامات کا جائزہ،سینیٹ ہال کا معائنہ کیا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 6 مئی (اے پی پی) چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی زیر صدارت بدھ کو اعلی سطح کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں سیکرٹری سینیٹ، سینیٹ انتظامیہ، سی ڈی اے اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے ریکوزیشن جمع ہونے کے بعد چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے اجلاس کے انعقاد کے انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے سینیٹ ہال کا معائنہ کیا اور کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں احتیاطی تدابیر کے تحت اجلاس کے دوران سماجی دوری یقینی بنانے کی حکمت عملی کا جائزہ لیا۔ چیئرمین سینیٹ نے پارلیمانی رہنماؤں، میڈیا سے بھی مشاورتی عمل کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ نازک صورتحال میں کسی کو بھی خطرے میں نہیں ڈال سکتے، ہال کے اندر ہر سطح پر سماجی فاصلے کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے اور متعلقہ اداروں کو بلڈنگ، کمیٹی رومز، ہالز میں جراثیم کش سپرے کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ اجلاس کے دوران روزانہ کی بنیاد پر سپرے ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے ساتھ اراکین سینیٹ کو دور دراز علاقوں سے سفری سہولت کی فراہمی کے لئے بھی انتظامات کئے جائیں گے۔ پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت کے ساتھ ایس او پی تیار کرینگے جن پر من و عن عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا۔ چیئرمین سینٹ نے کہا کہ حکومت مقامی سطح پر پی آئی اے کو فلائٹ آپریشن کی اجازت دے۔ اراکین سینیٹ، پارلیمینٹیرینز کو سفری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانی ہوگی۔ ریکوزیشن اجلاس کے لئے اراکین کو اسلام آباد کا سفر کرنا پڑے گا جس کیلئے مقامی پروازوں کا آپریشن بحال کرنا ہوگا۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ پارلیمانی رہنماؤں، قیادت سے مسلسل رابطے میں ہیں اور اجلاس کے انعقاد کیلئے فول پروف انتظامات یقینی بنائیں گے۔








