وزیراعظم عمران خان کی ہدایات پر صوبوں سے مشاورت کے ساتھ آنے والے چند دنوں میں ”سیلف کورنٹین” پالیسی کا نفاذ کرنے جا رہے ہیں، اس پالیسی کے نفاذ کے بعد ایک ہفتہ میں بیرون ممالک میں پھنسے ہوئے 14ہزار تک پاکستانیوں کو واپس لایا جا سکے گا، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کی میڈیا بریفنگ

اسلام آباد ۔ 7 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایات پر صوبوں سے مشاورت کے ساتھ آنے والے چند دنوں میں ''سیلف کورنٹین'' پالیسی کا نفاذ کرنے جا رہے ہیں، اس پالیسی کے نفاذ کے بعد ایک ہفتہ میں بیرون ممالک میں پھنسے ہوئے 14ہزار تک پاکستانیوں کو واپس لایا جا سکے گا، …

اسلام آباد ۔ 7 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایات پر صوبوں سے مشاورت کے ساتھ آنے والے چند دنوں میں ”سیلف کورنٹین” پالیسی کا نفاذ کرنے جا رہے ہیں، اس پالیسی کے نفاذ کے بعد ایک ہفتہ میں بیرون ممالک میں پھنسے ہوئے 14ہزار تک پاکستانیوں کو واپس لایا جا سکے گا، آئندہ ہفتے خلیجی ممالک، امریکہ، ملائیشیا، بنگلہ دیش، عراق اور چین سے 32 پروازوں کے ذریعے 7500 پاکستانیوں کو واپس لایا جائے گا۔ وہ جمعرات کو بیرون ممالک سے پاکستانیوں کو واپس لانے کے حوالہ سے تازہ ترین صورتحال بارے میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے۔ معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ بیرون ممالک میں پھنسے ہوئے تمام اوورسیز واپس آنا چاہتے ہیں، ہم ان کو جلد از جلد واپس لائیں گے’ بیرون ممالک میں پھنسے ہوئے پاکستانی جس صبر سے واپسی کے لئے حکومت پاکستان سے تعاون کر رہے ہیں، انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون کے بعد پاکستان کی جانب سے بیرون ممالک میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کیلئے خصوصی پروازیں شروع کی گئیں ہیں ‘اب تک 20 ہزار پاکستانیوں کو واپس لا چکے ہیں’ بیرون ممالک میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی تعداد میں بدستور اضافہ ہو رہا ہے’ دنیا کے مختلف ممالک میں اب تک ایک لاکھ 10ہزا افراد رجسٹرڈ ہو چکے ہیں جنہیں ترجیحی بنیادوں پر پاکستان واپس لایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک میں پھنسے ہوئے افراد کو واپس لانے کے آپریشن کے آغاز میں ہفتہ میں دو ہزار پاکستانیوں کو واپس لایا جا رہا تھا’ اب یہ تعداد ساڑھے 7ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ ہیلتھ ایڈوائزری کے مطابق بیرون ممالک سے آنے والے ہر پاکستانی کے کورونا ٹیسٹ ہو رہے ہیں ‘ انھیں48گھنٹے قرنطینہ میں رکھنے کے بعد ٹیسٹ ہوتا ہے’ منفی آنے پر گھر بھجواتے ہیں جبکہ مثبت آنے پر علاج کے لئے مخصوص ہسپتالوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایات پر صوبوں کی مشاورت سے قرنطینہ پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے سیلف کورنٹین پالیسی لارہے ہیں۔ ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ بیرون ممالک سے آنے والے تمام پاکستانی کورونا متاثرین ہیں’ ایسا نہیں ہے’ کچھ فلائٹس میں تو ایک بھی کورونا متاثر نہیں ہے جبکہ مخصوص پروازوں میں کرونا متاثرین کی تعداد 40 فیصد تک ہے’ یہ پروازیں خلیج ممالک سے آئیں تھیں ‘پاکستان کی وزارت خارجہ یہ معاملہ ان کے سامنے اٹھا رہی ہے کہ کورونا متاثرہ کو طے شدہ معاہدے کے مطابق پاکستان نہیں بھجوا جائے گا، پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔