اسلام آباد ۔ 18 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے بحری امور سید علی حیدر زیدی سے پاکستان میں چین کے سفیریاﺅ جنگ نے ملاقات کی جس میں کراچی کے لئے ایک بڑے منصوبے پر گفتگو کی گئی۔ وزارت بحری امور کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر بحری امور کا وژن ہے کہ وہ پاکستان کو میری ٹائم نیشن میں تبدیل کرنے اور …
وفاقی وزیر برائے بحری امور سید علی حیدر زیدی سے پاکستان میں چین کے سفیریاﺅ جنگ نے ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 18 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے بحری امور سید علی حیدر زیدی سے پاکستان میں چین کے سفیریاﺅ جنگ نے ملاقات کی جس میں کراچی کے لئے ایک بڑے منصوبے پر گفتگو کی گئی۔ وزارت بحری امور کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر بحری امور کا وژن ہے کہ وہ پاکستان کو میری ٹائم نیشن میں تبدیل کرنے اور خاص طور پر کراچی کی ترقی اور اسے دوسرے بندرگاہی شہروں کے برابر لانا چاہتے ہیں جس کےلئے وہ منصوبوں کو تیزی سے عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہے ہیںجس کے تحت تجاوزات والی زمین کو منظم طریقے سے منصوبہ بند رہائشی علاقوں میں تبدیل کریں گے جس میں تمام بنیادی سہولیات موجود ہوں گی۔ اس منصوبے سے توقع کی جاتی ہے کہ یہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی راغب کرے گا۔ ملاقات میں وفاقی وزیر علی زیدی نے لاس اینجلس اور نیو یارک بندرگاہوں کی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر بندرگاہیں شہروں کو چلاتی ہیں جہاں سے بندرگاہوں کی محصولات کو عوام کی بہتری کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد سے ہی کراچی کو نظرانداز کیا جارہا ہے، پراپرٹی مافیا اور اراضی پر قبضہ کرنے والوں کی ملی بھگت سے وسائل کی تقسیم بالکل مساوی نہیں۔ 2020ءکی پہلی سہ ماہی میں لانچ کے لئے تیار کیا گیا منصوبہ کورونا وباءکے پھیلاﺅ کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوگیا۔ پاکستان میں بلیو اکانومی کے تصور کو آگے بڑھاتے ہوئے، وزارت بحری امور سمندری وسائل سے بہتر طریقے سے مستفید ہونے اور بندرگاہوں پر کارگو کی برقت ترسیل و کلیئرنس کیلئے منصوبے شروع کرے گی۔ شفاف اور غیر امتیازی سلوک کے ساتھ ایک بہتر نظام بنایا جا رہا ہے۔ ملاقات کے دوران علی زیدی نے چینی سفیر کو آگاہ کیا کہ موجودہ کورونا وباءکے دوران بھی بندرگاہ کی کارروائی بغیر کسی مداخلت کے جاری ہے۔ وزیر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پورٹ قاسم نے مارچ کے مہینے میں 140 اور اس سال اپریل میں 130 جہازلنگر انداز ہوئے، اسی طرح وزارت بحری امور معیشت کے پہیے کو برقرار رکھتی ہے اور پاکستان کی سپلائی چین برقرار ہے۔ مزید برآں، علی زیدی نے سفیر کو آگاہ کیا کہ گہری سمندری ماہی گیری کو بحالی کی اجازت دی گئی ہے، صحت کے ایس او پی کی تعمیل کے بعد تاکہ ماہی گیر ماہی گیری کے خاتمے کی وجہ سے متاثر نہ ہوں۔ پاکستان میں چین کے سفیر نے اس کڑے وقت میں وزارتِ بحری امور کی ایس او پیز کی سختی سے پابندی اور اس کے ساتھ ساتھ روزگار اور رزق کے تحفظ کی دو جہتی حکمت عملی کو سراہا۔








