ملتان ۔18 مئی (اے پی پی) وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ اگر بھارت نے جنگی جنون میں کوئی مہم جوئی کی تواسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا جیسا کہ ہم نے فروری میں دیاتھا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان جنگی جنون میں مبتلانہیں ہوناچاہتا۔ ہم امن پسند ہیں اور امن پر یقین رکھتے ہیں ۔سرکٹ ہاﺅس ملتان میں سوموار کے روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیرخارجہ …
بھارت نے مہم جوئی کی تومنہ توڑجواب دیں گے، بعض قوتیں افغان امن عمل میں رخنہ ڈالنا چاہتی ہیں۔عالمی برادری ان پرنظررکھے۔وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی

مزید خبریں
ملتان ۔18 مئی (اے پی پی) وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ اگر بھارت نے جنگی جنون میں کوئی مہم جوئی کی تواسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا جیسا کہ ہم نے فروری میں دیاتھا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان جنگی جنون میں مبتلانہیں ہوناچاہتا۔ ہم امن پسند ہیں اور امن پر یقین رکھتے ہیں ۔سرکٹ ہاﺅس ملتان میں سوموار کے روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے مزید کہاکہ بھارت پاکستان کےخلاف فالزفلیگ آپریشن کرنے کے بہانے تلاش کررہا ہے۔ ہم نے اقوام متحدہ ‘ بی5سمیت عالمی برادری کو بھارتی منصوبہ بارے آگاہ کردیا ہے۔بھارت کورونا کی آڑ میں اپنے عزائم پورا کرنا چاہتا ہے ۔بھارت کوفروری میں ایڈونچرکا جواب مل گیا تھا اور اگر دوبارہ کوئی حرکت کی توبھارت پاکستان کی جانب سے مناسب جواب کا منتظر رہے۔ افغان صورتحال کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان امن معاہدہ بڑی پیشرفت تھی۔ افغانستان میں اندرونی معاملات کی وجہ سے امن مذاکرات میں تاخیر ہوئی۔افغانستان امن عمل میں کچھ طاقتیں رخنہ ڈال رہی ہیں۔ داعش اور دیگر امن خراب کرنے والی طاقتیں بھی افغانستان میں امن میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔رخنہ ڈالنے والوں میں ایک قوت ہمارے پڑوس میں ہے۔دنیا کواس ملک کی سازشوں پرنظررکھنی ہوگی۔ انہوںنے مزید کہاکہ افغانستان میں کئی ماہ کی سیاسی غیر یقینی کی صورتحال کو ختم کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی اور ان کے سیاسی حریف عبداللہ عبد اللہ کے درمیان اقتدار میں شراکت کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔اس معاہدے کے تحت اشرف غنی ہی ملک کے صدر رہیں گے جبکہ دونوں رہنما مساوی تعداد میں اپنے اپنے وزیر منتخب کریں گے۔ طالبان کےساتھ اب بات چیت آگے بڑھے گی اور جلد افغانستان میں طالبان قیدیوں کی رہائی شروع ہوجائےگی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لئے سازگار ماحول درکار ہے، اس کے لئے سب کو کردار ادا کرنا ہے۔ ہم نے افغانستان میں بم دھماکوں پر بھرپور مذمت کی۔ہم نے افغانستان سے تجارت اور دیگر چیزوں پر معاملات اچھے طریقے سے آگے بڑھائے۔ ہماری دعا ہے کہ افغانستان کی قیادت امن کیلئے مل کر کام کرے ۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں کورونا کے بعد بھارتی رویے میں تبدیلی کی امید تھی لیکن کشمیریوں کوہسپتالوں اور ادویات تک کی رسائی نہ ہوسکی۔ کشمیرمیں مسلم اکثریت کواقلیت میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور پاکستان نے کشمیرکامسئلہ دنیا بھرکےسامنے رکھا ہے۔بھارت اپنی معاشی حالت سے دنیا کی نظر ہٹانے کیلئے کشمیر میں کارروائی کرسکتا ہے۔ ملکی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے شاہ محمودقریشی نے کہاکہ حکومت یہ ارادہ رکھتی ہے کہ کاشت کار کو کھاد کی قیمتوں میں ریلیف دیا جائے۔ وزیراعظم کے حکم پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کی گئی۔ لوگوں کو زراعت اور ٹرانسپورٹ میں ریلیف ملے گا۔حکومت کل کابینہ کے اجلاس میں 65ارب روپے کا زرعی پیکج کسانوں کیلئے منظور کررہی ہے۔کوروناکی اس صورتحال سے اگرکوئی شعبہ ہمیں نکال سکتا ہے تو وہ زراعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سندھ کارڈ نہ کھیلے، یہ پاکستان کارڈ کھیلنے کا وقت ہے۔ پیپلز پارٹی بھی پنجاب میں آئے، اس کا حق ہے جبکہ سندھ میں جانا ہمارا استحقاق ہے۔ ہمیں سندھ میں جانے کیلئے کسی کے این او سی کی اجازت نہیں چاہیے۔پی پی چیئرمین بلاول کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہو ںنے کہا کہ میں نے بلاول بھٹو کو سمجھانے کی کوشش کی، میں نے انھیں تب سے دیکھا ہے جب وہ کونے میں کھڑے ہوکر محترمہ سے جھڑکیں کھاتے تھے۔انہوں نے کہا کہ میں نے بلاول کو سمجھانے کی کوشش کی کہ پیپلز پارٹی سے وفاق کی خوشبو آتی تھی صوبائیت کی تقسیم میں نہ پڑیں۔ اس وقت ساری دنیا کو کورونا سے لڑنا ہے نہ کہ خطے مین نئی لڑائی کا سوچا جائے۔ انہو ںنے کہاکہ پی ٹی آئی 18 ویں ترمیم کی خصوصیات اور افادیت سے واقف ہے۔ ہمارے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہم 18ویں ترمیم چاہے بھی تو ختم نہیں کر سکتے۔ سیاسی مظلومیت کا لبادہ اوڑھنے کیلئے پیپلز پارٹی 18ویںترمیم پر سیاست کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک لاکھ دس ہزار سے زائد پاکستانیوں نے وطن واپس آنے کیلئے رابطہ کیا ہے۔ ان میں طلبہ اور مزدوروں سمیت تبلیغ کیلئے گئے پاکستانی شامل ہیں۔ وزارت خارجہ ‘ وزارت اورسیز اور ہوا بازی کی وزارت نے اپنا کام مکمل کیا ہوا ہے۔ صوبو ںکی طرف سے کورنٹائن پروٹوکول مکمل ہوتے ہی ۔ بتدریج تمام پاکستانیوں کو واپس لائینگے ۔ چینی سیکنڈل پر ایک سوال کے حوالے سے انہو ںنے کہاکہ عمران خان کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوئے نہ ہی ایف آئی اے کی رپورٹ کہیں غائب نہیں ہوئی۔ انویسٹی گیشن ٹیم نے 3 ہفتے کا وقت مانگا جو پورا ہوگیا امید ہے رپورٹ جلد منظر عام پر آجائے گی۔انہو ںنے کہا کہ پاکستان کا ماضی اس بات کا گواہ ہے۔ آج تک کسی بھی معاملے کی رپورٹ ان پبلک نہیں ہوئی۔ پہلی دفعہ عمران خان نے کسی بھی رپورٹ کو ان پبلک کرنے کا اعلان کیا ہے اور جلد ہی منظر عام پر آئیگی۔اسرائیل میں چینی سفیر کی ہلاکت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اسرائیل میں چینی سفیرکی ہلاکت پر ابھی کوئی قیاس آرائی نہیں کروں گا۔جب تک ہلاکت کے حقائق سامنے نہ آئیں۔ٹڈی دل کے حملے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہو ںنے کہا کہ کل کابینہ کے ہونے والے اجلاس میں ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے اپنی سفارشات پیش کرونگا۔قبل ازیں سرکٹ ہاﺅس ملتان میں کوروناٹائیگر فورس اوراحساس پروگرام کے حوالے ڈسٹرکٹ سٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا وزیر اعظم والنٹیر فورس کسی مخصوص سیاسی جماعت کا ایجنڈا نہیں بلکہ یہ ایک رضا کار فورس ہے جس میں کسی بھی سیاسی جماعت کا بندہ ممبر بن سکتا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے ٹائیگر فورس کی تشکیل ایسے وقت میں کی ہے جب دنیا بھر کے 209ممالک کورونا جیسی وباءکا مقابلہ کررہے ہیں۔ اور پاکستان بھی اپنے وسائل کے مطابق اس کا مقابلہ کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کورونا کے باعث لاک ڈاﺅن میں سختی کرنا پڑی یا کرفیو لگانا پڑا تو ٹائیگر فورس انتظامیہ کے ساتھ ملکر اپنا کردار ادا کریگی۔ انہوں نے کہاکہ دنیا بھر کے ممالک نے وزیراعظم پاکستان کے اس اقدام کو سراہا ہے۔ اور انشاءاللہ ٹائیگر فورس کے اچھے نتائج برآمد ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر ملتان جو ٹائیگر فورس کے کنوینئر ہیں و ہ جلد ہی ٹائیگر رضا کاروں میں کارڈ تقسیم کریں گے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت اللہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع ملتان میں 33ہزار 2سو 36 افراد نے بطور ٹائیگر رضا کار رجسٹریشن کروائی ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے گزشتہ 2ماہ میں پنجاب کے بہترین قرنطینہ سینٹر کے قیام ‘ لاک ڈاﺅن کے دوران بہترین اقدامات پرملتان انتظامیہ کے اقدامات کو سراہا۔ اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر وفاقی پارلیمانی سیکرٹری مخدومزادہ زین حسین قریشی ‘ ڈپٹی کمشنر ملتان عامر خٹک‘صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک ‘ ملک احمد حسین ڈیہڑ ‘رانا قاسم نون ‘اراکین صوبائی اسمبلی ملک سلیم لابر ‘ وسیم خان بادوزئی ‘ ملک عدنان ڈوگر ‘میاں جمیل ‘ خالد جاویدوڑائچ ودیگر افراد موجود تھے۔








