سپریم کورٹ نے ملک بھر کے شاپنگ مالز سمیت تمام مارکیٹیں و تجارتی مراکز پورا ہفتہ کھولنے کا حکم دیدیا

اسلام آباد ۔ 18 مئی (اے پی پی) سپریم کورٹ نے ملک بھر کے شاپنگ مالز سمیت تمام مارکیٹیں و تجارتی مراکز پورا ہفتہ کھولنے کا حکم دیدیا ہے، عدالت عظمی نے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے این ڈی ایم اے کی رپورٹ پر معاونت کیلئے اٹارنی جنرل پاکستان کو طلب کر لیا ہے۔ پیر کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس مشیر عالم،جسٹس سردار طارق مسعود،جسٹس مظہر …

اسلام آباد ۔ 18 مئی (اے پی پی) سپریم کورٹ نے ملک بھر کے شاپنگ مالز سمیت تمام مارکیٹیں و تجارتی مراکز پورا ہفتہ کھولنے کا حکم دیدیا ہے، عدالت عظمی نے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے این ڈی ایم اے کی رپورٹ پر معاونت کیلئے اٹارنی جنرل پاکستان کو طلب کر لیا ہے۔ پیر کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس مشیر عالم،جسٹس سردار طارق مسعود،جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس قاضی محمد آمین احمد پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے کورونا وائرس از خود نوٹس کیس پر سماعت کی۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت کے رو برو پیش ہوئے جبکہ اٹارنی جنرل آف پاکستان نے ویڈیو لنک کے ذریعے کراچی رجسٹری سے دلائل دیئے سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس گلزار احمد نے کمشنر کراچی کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ شہر قائد میں دکانیں سیل کرنے کے بجائے ایس او پیز پر عمل کرائیں ، جو دکانیں سیل کی گئی ہیں انہیں بھی کھول دیں، چھوٹے تاجر کورونا کی بجائے بھوک سے ہی نہ مر جائیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وزارت قومی صحت کی رپورٹ اہمیت کی حامل ہے، جن چھوٹی مارکیٹوں کو کھولا گیا وہ کونسی ہیں، کیا زینب مارکیٹ ،طارق روڈ اور صدر کا شمار بھی چھوٹی مارکیٹوں میں ہوتا ہے۔ دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ شاپنگ مالز کے علاوہ تمام مارکیٹیں کھلی ہیں، کمشنر کراچی نے موقف اپنایا کہ مالز میں ستر فیصد لوگ تفریح کیلئے جاتے ہیں،ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف اپنایا کہ سندھ حکومت شاپنگ مالز کھولنے پر غور کررہی ہے ، جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ریمارکس دیئے کہ جب باقی مارکیٹیں کھلی ہوں گی تو شاپنگ مالز بند کرنے کا کیاجواز ہے۔دوران سماعت عدالتی استفسار پر ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے نے بتایا کہ پشاور میں تمام کاروباری مراکز کھلے ہیں، دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے عدالت کو بتا یا کہ بلوچستان میں کوئی شاپنگ مال نہیں باقی تمام مارکیٹس کھلی ہیں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ آئین نے عوام کو حقوق دیئے ہیں،ملک کی اکثریت غریب ہے، مزدوری نہیں کریں گے تو کیا کھائیں گے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کورونا وباءکے دو چار مہینے بعد بیروزگاری کا جو سیلاب آئے گا۔ حکومت کو اس کا اندازہ نہیںجو صنعتیں بند ہوگیئں وہ دوبارہ نہیں کھلیں گی،صنعتیں بند کرنے کے لئے صنعت کار بہانہ ڈھونڈ رہے تھے۔چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ یہ صورتحال رہی تو عوام سڑکوں پر آجائیں گے، پھر کس طرح انہیں روکیں گے ،کیا عوام کو گولیاں ماریں گے ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چھ لاکھ پچیس ہزار روپیہ فی مریض صرف پی پی ایز کی فراہمی پر خرچ ہورہاہے صحت کی عالمی تنظمیوں نے جو کہہ دیا اس پر آنکھیں بند کرکے عمل کیا گیا ،ملک کے اندر کسی نے خود حقائق جاننے کی کوشش نہیں کی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں منطق بتائی جائے، کیا وبا نے حکومتوں سے وعدہ کر رکھا ہے وہ پانچ دن نہیں آئے گی، کیا حکومتیں ہفتہ اتوار کو تھک جاتی ہیں، سندھ حکومت کی طرف سے ایڈوکیٹ جنرل نے موقف اپنایا کہ ہفتہ اور اتوار کو مارکیٹوں میں رش پڑ جاتا ہے۔ جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ عید پر خریداری کیلئے رش تو ہوگا،ایسے کئی گھرانے ہیں جو صرف عید پر نئے کپڑے خریدتے ہیں، متعدد گھرانے سال میں میٹھی عید اور بکرا عید پر ایک جوڑا بناتے ہیں۔دوران سماعت اٹارنی جنرل نے کہا کہ بڑے بڑے شاپنگ مالز کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے شاپنگ مالز میں تیس فیصد لوگ ونڈو شاپنگ کرتے ہیں، چھوٹی دکانوں کو کھلا رہنے دیں،کہیں ایسا نہ ہو کورونا سے بچ جانے والے لوگ بھوک سے مر جائیں،چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کراچی کی زینب مارکیٹ کو کھول دیں،زینب مارکیٹ غریب پرور مارکیٹ ہے، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کورونا کے حوالے سے ملک میں اربوں روپے خرچ ہو چکے ہیں، یہ کہاں جا رہے ہیں؟جس پر این ڈی ایم اے کے نمائندہ نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے لیے 25 ارب مختص ہوئے ہیں، یہ تمام رقم ابھی خرچ نہیں ہوئی۔ نمائندہ این ڈی ایم اے نے عدالت کو بتایا کہ یہ رقم ابھی پوری طرح ملی نہیں اور اس میں دیگر اخراجات بھی شامل ہیں جن میں میڈیکل آلات، کٹس اور قرنطینہ مراکز پر پیسے خرچ ہونا شامل ہیں ۔جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے نمائندہ این ڈی ایم اے کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ 25 ارب تو آپ کو ملے ہیں صوبوں کو الگ ملے ہیں، احساس پروگرام کی رقم الگ ہے، یہ سارا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟ اتنی رقم لگانے کے بعد بھی اگر 600 لوگ جان بحق ہو گئے تو ہماری کوششوں کا کیا فائدہ؟۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمارا ملک کرونا ٹیسٹنگ کٹ بنانے کی صلاحیت کیوں نہیں حاصل کر سکا ؟۔ عوام کے حقوق کی آئین میں ضمانت دی گئی ہے، ٹڈی دل کیلئے کیا کیا ہے؟، ٹڈی دل آئندہ سال ملک میں فصلیں نہیں ہونے دیگا۔ دوران سماعت جسٹس قاضی محمد آمین نے ریمارکس دیے کہ مجھے نہیں لگتا کورونا پر پیسہ سوچ سمجھ کر خرچ کیا جا رہا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان میں غربت بہت ہےں لوگ روزانہ کما کر ہی کھانا کھا سکتے ہیں،کراچی پورٹ پر اربوں روپے کا سامان پڑا ہے جو باہر نہیں جارہا،لگتا ہے کراچی بندرگاہ پر پڑا سامان سمندر میں پھینکنا پڑے گا،کیا کسی کو معلوم ہے دو ماہ بعد کتنی بے روزگاری ہوگی؟ بند ہونے والی صنعتیں دوبارہ چل نہیں سکیں گی چیف جسٹس گلزار احمد نے سیکریٹری صحت کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سنا ہے ہولی فیملی ہسپتال سے لوگوں کو نجی ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے شعبہ صحت کی کارکردگی کے حوالے سے ریمارکس دیئے کہ ڈاکٹر ہمارے لیے محترم ہیں لیکن ڈاکٹرز میں بھی کالی بھیڑیں موجود ہیں،سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹرز او ر طبی عملے کا دوائی بنانے والی فرم یا دوائی بنانے والے مالک سے تعلق ہوتا ہے،ڈاکٹرز اور طبی عملہ ادویہ ساز کمپنی سے گٹھ جوڑ کر کے بیرون ممالک کے دورے کرتے ہیں،تحائف دیئے جاتے ہیں، پیسوں کی وصولیا ں کی ہوتی ہے۔ چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ سرکاری ہسپتالوں میں تیسرے درجے(تھرڈ کلاس) کی ادویات مریضوں کو فراہم کی جاتی ہیں،عام آدمی سرکاری ہسپتال میں دوائی لینے کیلئے گھنٹوں قطار میں کھڑا رہتا ہے ،سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈیز میں مریضوں کا رش لگا ہوتا ہے اور ڈاکٹرز خوش گپیوں میں مصروف ہوتے ہیں،ہمیں سب پتہ ہے،سرکاری ہسپتالوں میں کیمرے لگائے جائیں تو سب کچھ سامنے آجائے،لیکن کیا کریں سرکاری ہسپتالوں میں کیمرے لگائے جائیں تو کیمرے والے بھی مینج ہو جائیں۔سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹرز مفادات کے ٹکراو¿ کے پیش نظر مریضوں کو پرائیویٹ کلینکس بھجواتے ہیں۔ دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کورونا کے مریض کا علاج یہ ہے کہ اسے ایک کمرے میں بند کردیا جاتا ہے اس پر چھ لاکھ پچیس ہزار اور اگر صوبوں کا خرچہ بھی شامل کیا جائے تو ایک مریض پر پچیس لاکھ خرچ ہورہے ہیں، لیکن نظر نہیں آرہے،، بعض سرکاری اسپتالوں میں کرونا کے ٹسٹ مثبت اور پرائیوٹ میں ا سی مریض کے ٹیسٹ منفی آجاتے ہیں۔ عوام پر حکومت آئین کے مطابق کرنا ہوتی ہے، مارکیٹیں اور کاروباری سرگرمیوں کو ہفتہ اتوار کو بند کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے، پنجاب اور اسلام آباد شاپنگ مالز کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں، سندھ میں شاپنگ مالز بند رکھنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، سندھ شاپنگ مالز کھولنے کے لئے وفاقی حکومت سے رجوع کرے، اجازت کے بعد شاپنگ مالز کھولنے میں رکاوٹ پیدا نہ کی جائے ۔ عدالت عظمی نے اپنے تحریری حکمنامے میں قرار دیا کہ پاکستان میں کورونا وائر س نے بظاہر وبا کی صورت اختیار نہیں کی اور دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں کورونا وائرس کے اثرات اتنے نہیں۔ تحریری آرڈر میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ وفاقی سیکرٹری صحت کے مطابق ہر سال اسلام آباد میں پولن الرجی سے ایک ہزار سے زائد افرادکا انتقال ہوجاتا ہے جبکہ متعدد لوگ دیگر امراض سے مر جاتے ہیں،ہم یہ نہیں کہتے کہ حکومت کورونا وائرس پر توجہ نہ دے لیکن اپنے تمام وسائل ایک بیماری پر خرچ نہ کرے اور نہ ملک کو غیر فعال کرے،عدالت نے قرار دیا ہے کہ ملک کو بند کرنے کے نتائج عوام کے لئے تباہ کن ہوں گے۔عدالت نے اپنے حکمنامے میں ملک کے اندر کاروبار کی بندش کو آئین کے آرٹیکل چار ،اٹھارہ اور پچیس کے خلاف قرار دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ پنجاب ،خیبر پختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان نے وفاقی حکومت کی اجازت سے تجارتی مراکز اور شاپنگ مال کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اسلام آباد وفاقی دارالحکومت میں بھی تجارتی مراکز کھول دیئے گئے ہیں لیکن سندھ میں شاپنگ مال بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا کوئی جواز نہیں، سندھ شاپنگ مال کھولنے کے لیے وزارت صحت سے منظوری لے گا اور عدالت توقع کرتی ہے کہ وزارت صحت کوئی غیر ضروری رکاوٹ پیدا نہیں کرے گی اور کاروبار کھول دے گی۔ عدالت نے تحریری حکمنامے میں ملک بھر کی تمام مارکیٹوں اور شاپنگ مالز میں ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنا نے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے متعلقہ حکومتیں ذمہ دار ہوں گی۔عدالت نے قرا ردیا ہے کہ کورونا کے حوالے سے کتنے پیسے خرچ کیے گئے اس حوالے سے این ڈی ایم اے حکام اور اٹارنی جنرل کو الگ سے سنیں گے۔