اسلام آباد ۔ 25 مئی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے پیر کو ٹیلی فون کیا اور ان کے ساتھ کراچی میں طیارہ کے المناک حادثہ میں قیمتی جانی نقصان پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے اس مشکل گھڑی میں ترک قوم کے ساتھ پاکستانی بھائیوں کیلئے بھرپور حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق ترکی …
وزیراعظم عمران خان کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا ٹیلی فون ، کراچی میں طیارہ کے المناک حادثہ میں قیمتی جانی نقصان پر اظہار تعزیت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 25 مئی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے پیر کو ٹیلی فون کیا اور ان کے ساتھ کراچی میں طیارہ کے المناک حادثہ میں قیمتی جانی نقصان پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے اس مشکل گھڑی میں ترک قوم کے ساتھ پاکستانی بھائیوں کیلئے بھرپور حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق ترکی کے صدر اور وزیراعظم نے ایک دوسرے کو عیدالفطر کی مبارکباد دی اور کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے مل کر نمٹنے کیلئے دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے ترکی کے صدر کو پاکستان میں کورونا وائرس کا پھیلاﺅ روکنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے طبی سامان کی فراہمی پر صدر اردوان کا شکریہ ادا کیا جس سے دونوں ممالک کے درمیان مشکل کی گھڑی میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کے حوالہ سے تاریخی تعلقات کی عکاسی ہوتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے طویل مدتی اقتصادی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سماجی و اقتصادی مشکلات کے خاتمہ کیلئے قرضوں میں ریلیف اور تعمیرنو کیلئے جامع مربوط لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے ترقی پذیر ممالک کیلئے قرضوں میں ریلیف سے متعلق عالمی اقدام کیلئے اپنی اپیل کا ذکر کیا جس کا مقصد ترقی پذیر ممالک کو چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے صدر اردوان کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال سے بھی آگاہ کیا جس میں لاک ڈاﺅن اور بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کی وجہ سے دوگنا اضافہ ہو گیا ہے۔ وزیراعظم نے ایسے وقت میں جبکہ دنیا کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے مقبوضہ وادی میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کیلئے بھارتی اقدامات کے حوالہ سے پاکستان کی تشویش سے بھی انہیں آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے ترکی کے صدر کو کوویڈ۔19 کے تناظر میں بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے حوالہ سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ اس چیز کو عالمی برادری کی طرف سے مسترد کیا جانا چاہئے۔








