اسلام آباد ۔ 29 مئی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے جیلوں میں قیدی خواتین کی حالت زار کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی۔ جمعہ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق یہ کمیٹی وفاقی وزیر انسانی حقوق کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے جبکہ سیکرٹری وزارت انسانی حقوق کمیٹی کے سیکرٹری ہوں گے۔ کمیٹی میں سیکرٹری داخلہ، چاروں صوبوں اور گلگت …
وزیراعظم عمران خان نے جیلوں میں قیدی خواتین کی حالت زار کا جائزہ لینے کیلئے وفاقی وزیر انسانی حقوق کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 مئی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے جیلوں میں قیدی خواتین کی حالت زار کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی۔ جمعہ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق یہ کمیٹی وفاقی وزیر انسانی حقوق کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے جبکہ سیکرٹری وزارت انسانی حقوق کمیٹی کے سیکرٹری ہوں گے۔ کمیٹی میں سیکرٹری داخلہ، چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے ہوم سیکرٹریز، چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے جیل خانہ جات کے آئی جیز شامل ہوں گے۔ سارہ بلال اور حیاء زاہد کو بھی کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی قیدی خواتین کے ساتھ صنفی امتیازی اور اس سے متعلقہ معاملات پر کام کرے گی اور اس مسئلہ کے حل کیلئے اداہ جاتی انتظامات تجویز کرے گی۔ بیان کے مطابق کمیٹی کی چیئرپرسن کو کسی فرد کو بطور رکن کمیٹی میں شامل کرنے کا اختیار ہو گا۔ کمیٹی جائزہ لے گی کہ کیا خواتین قیدیوں کے تحفظ، حقوق، صحت، سلامتی اور فلاح و بہبود کے حوالہ سے بالخصوص اور جیل کے قواعد و ضوابط، ضابطہ فوجداری 1898ء اور بین الاقوامی سطح پر خواتین قیدیوں کے حوالہ سے رائج قوانین، قواعد و ضوابط اور طریقہ کار کے مطابق سلوک کو کس حد تک یقینی بنایا جا رہا ہے۔ کمیٹی اس امر کو یقینی بنائے گی کہ خواتین کو ان کی جسمانی، نفسیاتی، جذباتی اور سماجی ضروریات کے مطابق مخصوص سہولیات میسر ہوں۔ کمیٹی جیل اور دیگر متعلقہ قواعد کا بھی جائزہ لے گی اور خواتین کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے ضروری سفارشات پیش کرے گی۔ کمیٹی خواتین قیدیوں کے حوالہ سے بالخصوص گورننس، قانونی معاونت، جیلوں کے انتظامی ڈھانچہ اور طریقہ کار کا جائزہ لے گی اور بہتری کیلئے تجاویز دے گی۔ کمیٹی خواتین پر تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے انفرادی واقعات کا بھی جائزہ لے گی اور ادارہ جاتی سطح پر احتساب کیلئے اقدامات تجویز کرے گی۔ کمیٹی جیلوں میں خواتین کے ساتھ بچوں کی صورتحال کا بھی جائزہ لے گی اور ان بچوں کو تعلیم کی فراہمی اور ان کی فلاح و بہبود کیلئے بھی تجاویز دے گی۔ کمیٹی جیلوں کے گورننس نظام کی بہتری کیلئے بھی قابل عمل اور جامع تجاویز دے گی۔ کمیٹی خواتین قیدیوں کو رہائی کے بعد معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بنانے اور ان کی فلاح و بہبود سے متعلقہ دیگر امور پر بھی کام کرے گی۔ کمیٹی 4 ماہ کے اندر اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔








