اسلام آباد ۔ 29 مئی (اے پی پی) ترقی پذیر ممالک میں سیاحتی شعبہ کی سرگرمیاں بحال کرنے کی کوششوں کے سلسلہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ممبر ممالک کے وزراء برائے سیاحتی امور ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ پاکستان کی نمائندگی چیئرمین نیشنل ٹورازم کوآرڈینیشن بورڈ سید ذوالفقاربخاری نے کی۔ اجلاس میں پاکستان، بھارت، چین، روس، قزاخستان، کرغزستان، تاجکستان، …
پاکستان میں سیاحتی شعبہ کی ترقی وزیراعظم عمران خان کی اولین ترجیح ہے، پائیدار اور ماحول دوست سیاحت کے فروغ کیلئے 10 سالہ پالیسی کو حتمی شکل دی گئی ہے، چیئرمین نیشنل ٹورازم کوآرڈینیشن بورڈ سید ذوالفقاربخاری کا ترقی پذیر ممالک میں سیاحتی شعبہ کی سرگرمیاں بحال کرنے کی کوششوں کے سلسلہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 مئی (اے پی پی) ترقی پذیر ممالک میں سیاحتی شعبہ کی سرگرمیاں بحال کرنے کی کوششوں کے سلسلہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ممبر ممالک کے وزراء برائے سیاحتی امور ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ پاکستان کی نمائندگی چیئرمین نیشنل ٹورازم کوآرڈینیشن بورڈ سید ذوالفقاربخاری نے کی۔ اجلاس میں پاکستان، بھارت، چین، روس، قزاخستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان کے وزراء شریک ہوئے۔ اجلاس میں عالمی سطح پر سیاحتی سرگرمیوں کی بحالی کے ایکشن پلان پر گفتگو اور عالمی وباء کے باعث ممبر ممالک میں سیاحت کی صنعت کو درپیش چیلنجز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید ذوالفقاربخاری نے کہا کہ پاکستان میں سیاحتی شعبہ کی ترقی وزیراعظم عمران خان کی اولین ترجیح ہے، پائیدار اور ماحول دوست سیاحت کے فروغ کیلئے 10 سالہ پالیسی کو حتمی شکل دی گئی ہے، پالیسی پر عملدرآمد کیلئے پانچ سالہ ایکشن پلان بھی مرتب کیا گیا ہے، وبائی صورتحال کے باعث پالیسی پر عملدرآمد میں تاخیر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک عالمی آبادی کا 44 فیصد ہیں، رکن ممالک سیاحت کی صنعت کو بحال کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، صورتحال بہتر ہونے پر سیاحت کا شعبہ سب سے پہلے بحال ہو گا، حکومت صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے ہی ایس او پیز تیار کر رہی تھی۔ اجلاس میں سید ذوالفقاربخاری نے سیاحتی شعبہ کی بہتری کیلئے رکن ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ اجلاس میں رکن ممالک کے درمیان رابطہ کمیٹی کے قیام کی تجویز بھی پیش کی۔ ممبر ممالک نے ٹورازم کوآپریشن پروگرام 2020-21ء کیلئے مشترکہ ایکشن پلان کی بھی منظوری دیدی۔








