پی ٹی آئی کے مرکزی نائب صدر و پارلیمانی لیڈرحلیم عادل شیخ کی پریس کانفرنس

کراچی۔ 3 جولائی(اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی نائب صدر و پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ اگر کوئی جھوٹ بول رہا ہو تو اس کا جواب دینا بھی ضروری ہے ،آج مرتضی وھاب نے جو باتیں کیں اس کا جواب دینا لازمی تھا، مرتضی وہاب کو مبارکباد دیتا ہوں کہ وہ کوروناوائرس سے صحتیاب ہوئے، جن کو ووٹرز نے رد کر …

کراچی۔ 3 جولائی(اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی نائب صدر و پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ اگر کوئی جھوٹ بول رہا ہو تو اس کا جواب دینا بھی ضروری ہے ،آج مرتضی وھاب نے جو باتیں کیں اس کا جواب دینا لازمی تھا، مرتضی وہاب کو مبارکباد دیتا ہوں کہ وہ کوروناوائرس سے صحتیاب ہوئے، جن کو ووٹرز نے رد کر دیا ہو وہ آج وہ وفاقی وزیر سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں،آج جے آئی ٹی کا تذکرہ ہوا یہ جو جی آئی ڈی پیش کرنے جا رہے ہیں وہ جعلی ہو گی، اگرایسا ہوتا تو جے آئی ٹی کو رسک قرار نہ دیتے، بلاول زرداری کہتے ہیں عدالتی فیصلہ پر سندھ کے اسپتالوں پر حملہ ہوگیا، این ایف سی ایوارڈ کے تحت جو پیسے جاتے ہیں سندھ کو 225 ارب روپے ملے پورے ملک اور سندھ کا 65 فیصد ریونیو کراچی سے ہوتا ہے پھر کہتے ہو کہ سندھ پر ڈاکہ پڑ گیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو انصاف ہاﺅس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی راجہ اظہر، کریم بخش گبول، پی ٹی آئی رہنما جام فاروق احمد اور دیگر بھی موجود تھے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ کی 6 کروڑ عوام محب وطن ہے بات تو سچ ہے بات ہے رسوائی کی، وفاق کے نام پر ٹیکس لے کر وفاق کو کیسے نہیں دینگے؟ آئین کے تحت پابند ہیں کہ ٹیکس کلیکشن کا فیصلہ وفاقی حکومت کا دائرہ کار ہے، اگرکسی صوبے کے مالی معاملات خراب ہوجائیں تو گورنرراج لگایا جاسکتا ہے ،صوبے نے ٹیکس لینے سے منع کردیا ہے، سندھ میں گورنر راج لگایا جا سکتا ہے ،میں پیپلز پارٹی سے کہتا ہوں کہ نفرت کا کھیل کھیلنا بند کی کیا جائے، علی زیدی کراچی کی آواز بنا، علی زیدی نے آواز اٹھائی کہ تمام جے آئی ٹی پبلک ہونی چاہیے، پیپلزپارٹی کا کرمنل ونگ الذوالفقار سے شروع ہوکر گینگ وار تک آیا،آج کہہ رہے ہیں کہ ہم جے آئی ٹی پبلک کریں گے، جیسے جعلی اکاﺅنٹ ویسے جعلی جے آئی ٹی پبلک کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عزیر بلوچ کی سرپرستی چھپی ہوئی نہیں ہے ،لیاری کے ٹکٹس عزیر بلوچ کے کہنے پر دئے جاتے تھے، قتل و غارت کرائی جاتی تھی، پیپلزپارٹی لیڈرشپ کی تصاویر عزیربلوچ کے ساتھ ہیں، ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ علی زیدی نے پارلیمنٹ میں تقریر کرکے آپ کو بے نقاب کیا،ہم میڈیا پر جے آئی ٹی دیکھتے آئے ہیں، اگر یہ اہم نہیں ہے تو سندھ حکومت سپریم کورٹ کیوں گئی علی زیدی عدالت گئے ہمارے ہاتھ میں تو اب تک جے آئی ٹی نہیں آئی ثابت ہواکہ لیاری گینگ وارپیپلزپارٹی کی سرپرستی میں بنی۔انہوں نے کہا کہ خون کے دھبوں اوربھتے کو چھپایا جارہا ہے، بھٹوصاحب نے پیپلزپارٹی کی بنیاد لاہورمیں رکھی، پیپلزپارٹی چارصوبوں سے اب چارڈویژن تک محدود ہوگئی ہے، سندھ میں دوکان بندہوتی دیکھ کر سندھ کارڈ استعمال کیا جارہا ہے، بلاول کہتا ہے پیسے کم ملے توسندھ پر حملہ ہوگیا، سندھ کی عوام میں وفاق کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے، آئین میں پابندی ہے صوبہ انحراف نہیں کرسکتا، ہم چاہتے ہیں آرٹکل 149 لگا کر سندھ کی عوام کو حقوق دلائے جائیں۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ اگر کے الیکٹرک نے قبلہ درست نہ کیا تو پیرکے دن ہیڈ آفس کے باہر اراکین صوبائی اسمبلی دھرنا دیں گے، کے الیکٹرک کلرالیکٹرک ہے، ادارے کافرانزک آڈٹ کیا جائے، نیب ایف آئی اے تحقیقات کرے ،کے الیکٹرک کو حکومت دوبارہ اپنی تحویل میں لے، کے الیکٹرک جعلی بل بھیجتی ہے، کے الیکٹرک کے خلاف کرمنل ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے، کے الیکٹرک کے ٹیرف بڑھانے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔