اسلام آباد ۔ 8 جولائی (اے پی پی) گزشتہ مالی سال 2019-20ءکے ابتدائی گیارہ ماہ کے دوران جاری کھاتوں کے ملکی خسارہ میں 9.16 ارب ڈالر کی نمایاں کمی ہوئی ہے جبکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں 1.14 ارب ڈالر اور ترسیلات زر کی وصولی میں 55 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی کی رپورٹ کے مطابق مالی …
جاری کھاتوں کے ملکی خسارہ میں 9.16 ارب ڈالر کی نمایاں کمی، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 1.14 ارب ڈالر، ترسیلات زر کی وصولی میں 55 کروڑ ڈالرکا اضافہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 8 جولائی (اے پی پی) گزشتہ مالی سال 2019-20ءکے ابتدائی گیارہ ماہ کے دوران جاری کھاتوں کے ملکی خسارہ میں 9.16 ارب ڈالر کی نمایاں کمی ہوئی ہے جبکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں 1.14 ارب ڈالر اور ترسیلات زر کی وصولی میں 55 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2018-19ءمیں جولائی تا مئی کے دوران کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ (جاری کھاتوں کا خسارہ ) 12.45 ارب ڈالر تھا جو گزشتہ مالی سال 2019-20ءمیں جولائی تا مئی کے دوران 9.16 ارب ڈالر کی کمی سے 3.29 ارب ڈالر تک کم ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے عرصہ کے دوران ملک میں کی جانے والی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 2.4 ارب ڈالر تک برھ گئی جبکہ مالی سال 2018-19ءکے پہلے گیارہ مہینوں کے دوران پاکستان میں 1.26 ارب ڈالرکی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی گئی تھی اس طرح مالی سال 2018-19ءکے مقابلہ میں 2019-20ءکے دوران ایف ڈی آئی میں 1.14 ارب ڈالر کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایس بی پی کے مطابق کووڈ۔19 کی عالمی وبا اور عالمی اقتصادی سست روی کے باوجود گزشتہ مالی سال میں ترسیلات زر کی وصولی میں 55 کروڑ ڈالر کے اضافہ سے جولائی تا مئی 2019-20ءکے دوران ترسیلات کا حجم 20.65 ارب ڈالر تک بڑھ گیا جبکہ جولائی تا مئی 2018-19ءکے دوران سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 20.1 ارب ڈالر پاکستان بھجوائے گئے تھے۔








