اسلام آباد ۔ 8 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے لئے فنڈز کی سرکاری خزانے سے فراہمی کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے طلب کی ہے‘ حکومت اعلیٰ ترین ادارے کی رائے کا احترام یقینی بنائے گی۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے …
وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کا اسلام آباد میں مندر کی تعمیربارے پالیسی بیان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 8 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے لئے فنڈز کی سرکاری خزانے سے فراہمی کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے طلب کی ہے‘ حکومت اعلیٰ ترین ادارے کی رائے کا احترام یقینی بنائے گی۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے پالیسی بیان دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اس معاملے پر بحث و مباحثہ جاری ہے۔ پاکستان کا آئین‘ قرآن پاک‘ سنت نبوی اور تاریخ اسلام کے اوراق میں مذہبی آزادیوں اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے بہت کچھ ملتا ہے۔ اسلام وہ پہلا دین ہے جس نے اقلیتوں کے حقوق کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں فراخدلانہ مثالیں موجود ہیں۔ ہمارے آئین میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان کا اقلیتوں کے ساتھ سب سے شائستہ اور مناسب رویہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو حکومت ان رکاوٹوں کو ختم کرنے کی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے ہم سے کہا گیا کہ فنڈز دیئے جائیں، ہم نے کہا کہ ہمارے پاس فنڈز محدود ہیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہماری درخواست وزیراعظم کو بھجوا دیں ،ہم نے وہ درخواست وزیراعظم کو بھجوا دی ہے۔ پیر نور الحق قادری نے کہا کہ اسے مذہبی اور سیاسی طبقات نے ایک مسئلہ بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ہم علماءکرام کی آراءکو بھی سرف نظر نہیں کر سکتے۔ سرکاری خزانے سے ہم مندر یا گوردوارہ کی تعمیر کے لئے فنڈز دے سکتے ہیں یا نہیں یہ سوال ہم نے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوایا ہے۔ اس ملک میں کوئی بھی فیصلہ قرآن و سنت کے خلاف نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل اعلیٰ ترین ادارہ ہے۔ وزیراعظم ‘ وزارت مذہبی امور سمیت کوئی بھی اس کے خلاف نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے کے بائی لاز کی خلاف ورزی پر مندر کی تعمیر کا کام رکا ہوا ہے۔








