سعودیہ چین تعلقات کی 30 ویں سالگرہ پر سیمینار

ریاض۔ 17 جولائی (اے پی پی) سعودی عرب اور چین کے سفارتی تعلقات کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر مشترکہ وڈیو سیمینار منعقد کیا گیا۔سعودی خبررساں ادارے کے مطابق سیمینار کے انچارج چین عرب سٹڈیز سینٹر کے پروفیسر وانگ کوانگ ڈا نے کہا کہ سفارتی تعلقات کے قیام کی سالگرہ دونوں ملکوں کے لیے عزیز ہے، ہمیں اس موقع پر اہم تاریخی تعلقات اور روشن یادوں کا احیا کرکے …

ریاض۔ 17 جولائی (اے پی پی) سعودی عرب اور چین کے سفارتی تعلقات کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر مشترکہ وڈیو سیمینار منعقد کیا گیا۔سعودی خبررساں ادارے کے مطابق سیمینار کے انچارج چین عرب سٹڈیز سینٹر کے پروفیسر وانگ کوانگ ڈا نے کہا کہ سفارتی تعلقات کے قیام کی سالگرہ دونوں ملکوں کے لیے عزیز ہے، ہمیں اس موقع پر اہم تاریخی تعلقات اور روشن یادوں کا احیا کرکے مستقبل کے حوالے سے نئے عزائم کا اظہار کرنا ہوگا۔سیمینار میں چین میں متعین سعودی سفیر ترکی الماضی اور سعودی عرب میں چین کے سابق سفیر بی چنگ بن شریک ہوئے۔سعودی سفیر نے کہا کہ سابق وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے 1990ءمیں سعودی عرب اور چین کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات، سفرا کے تبادلے اور سیاسی و معاشی اجلاسوں کی دستاویز پر دستخط کیے تھے۔سعودی سفیر نے کہا کہ دونوں ملکوں نے 30 برس کے دوران باہمی تعلقات کے حوالے سے ریکارڈ کامیابیاں حاصل کی ہیں، تمام شعبوں میں تعلقات استوار ہو چکے ہیں، جنوری 2016ءمیں چینی صدر نے سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا اور اس موقع پر اعلیٰ سطحی کمیشن کے قیام پر دستخط ہوئے پھر شاہ سلمان نے مارچ 2017ء میں چین کا تاریخی دورہ کیا۔سعودی سفیر نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات اور شراکت کے رشتے سرمایہ کاری، معیشت، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں مسلسل عروج پذیر ہیں،فروری 2019 ءکے دوران سعودی ولی عہد کے دورہ چین نے دو طرفہ تعلقات کو نئے افق سے روشناس کرایا اس کے علاوہ سعودی کورس میں چینی زبان کی شمولیت باہمی تعلقات کے روشن مستقبل کا پتہ دیتی ہے۔چینی سفیر نے گزشتہ 30 برس کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے ارتقا کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بار چین سعودی عرب کا سب سے بڑا تجارتی شریک بن گیا ہے جبکہ مغربی ایشیا اور شمالی افریقا میں سعودی عرب چین کا سب سے بڑا تجارتی شریک ہے۔

مزید خبریں