صدر مملکت کا ٹیکس محتسب مشتاق احمد سکھیرا کی طرف سے سال 2019ءکی سالانہ رپورٹ پیش کرنے کی تقریب میں اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 17 جولائی (اے پی پی) صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ٹیکس انتظامیہ کی بدانتظامی کے خلاف تسلی بخش کارروائی کرنے پر وفاقی ٹیکس محتسب کی کوششوں کو سراہا۔ ٹیکس گزاروں کی شکایات کی داد رسی کرنے اور از خود نوٹس اختیارات کا استعمال کرکے ٹیکس سسٹم میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرنے پر وفاقی ٹیکس محتسب کی کاوشوں کی تعریف کی۔ٹیکس بارے شکایت کنندگان کے لئے سہولیات …

اسلام آباد ۔ 17 جولائی (اے پی پی) صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ٹیکس انتظامیہ کی بدانتظامی کے خلاف تسلی بخش کارروائی کرنے پر وفاقی ٹیکس محتسب کی کوششوں کو سراہا۔ ٹیکس گزاروں کی شکایات کی داد رسی کرنے اور از خود نوٹس اختیارات کا استعمال کرکے ٹیکس سسٹم میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرنے پر وفاقی ٹیکس محتسب کی کاوشوں کی تعریف کی۔ٹیکس بارے شکایت کنندگان کے لئے سہولیات کی بہتری کے مزیداقدامات کی ضرورت ہے، ان خیالات کا اظہار صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ایوان صدر میں ٹیکس محتسب مشتاق احمد سکھیرا کی طرف سے سال 2019ءکی سالانہ رپورٹ پیش کرنے کی تقریب کے دوران کیا۔ وفاقی ٹیکس محتسب کی ٹیکس گزاروں کی شکایات کے ازالے کیلئے بلا معاوضہ خدمات ، ان کو باخبر رکھنے کیلئے روایتی اور ڈیجیٹل میڈیا کے بھرپور استعمال ،ٹیکس گزاروں کی سہولت کیلئے آن لائن شکایات پورٹل کا قیام اور ٹیکس محتسب آفس کو ڈیجیٹل بنانے پر صدر مملکت نے اطمینان کا اظہار کیا اور ان سہولیات کی بہتری کیلئے مزیداقدامات پر زور دیا۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ ٹیکس محتسب کے قانون میں مزید بہتری کی گنجائش ہے تاکہ یہ ادارہ مزید فعال ہو اور ٹیکس گزاروں کو تیر ترین انصاف مہیا ہو۔ اس حوالے سے صدر مملکت نے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔وفاقی ٹیکس محتسب مشتاق احمد سکھیرا نے سال 2019ءکی سالانہ کارکردگی کی رپورٹ پیش کی اور پچھلے پانچ سالہ کارکردگی کے ساتھ موازنہ کیا ۔صدر مملکت کو بتایا گیا کہ پچھلے سال وفاقی ٹیکس محتسب نے ٹیکس گزاروں کو 5.8 ارب روپے کے ریفنڈ منظور کرنے کے احکامات جاری کئے اور وفاقی ٹیکس محتسب کی تقریبا 82 فیصد سفارشات ایف بی آر نے نافذ کیں۔ وفاقی ٹیکس محتسب نے صدر مملکت کو بتایا کہ ٹیکس گزاروں کی اکثر شکایات ایف بی آر کی ٹیکس کی جانچ پڑتال کے متعلق تھیں جو کہ وفاقی ٹیکس محتسب کے دائرہ کار میں نہیں آتیں۔ ٹیکس محتسب کے قانون میں بہتر ی سے بدانتظامی پر ٹیکس گزاروں کی شکایات کی داد رسی میں مدد ملے گی۔ ٹیکس محتسب نے مزید بتایا کہ پچھلے سال 2510 شکایات موصول ہوئیں اور واضح بدانتظامی کے خلاف 202 از خود نوٹس لئے گئے۔ زیرو ریٹنگ سہولت اور مینوفیکچررز کے آڈٹ، سونے کی غیر قانونی سمگلنگ اور منی لانڈرنگ، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی غیر قانونی نیلامی اور سمگلنگ، ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی کھلے عام فروخت اور سمگلنگ، سگریٹ بنانے والی کمپنیوں سے ٹیکس وصولی میں بے قاعدگیاں، زرعی آمدن کے ذریعے ٹیکس چوری، گھوسٹ مینوفیکچررز اور جعلی سیلز ٹیکس ریفینڈ،جعلی رسیدوں کے ذریعے ٹیکس چوری جیسے سنگین بدانتظامیوں کے متعلق ٹیکس محتسب نے از خود نوٹس لئے اور ایف بی آر کو دو ریسرچ سٹیڈیز سمیت کل 25 سفارشات بھیجی گئیں۔ کرپشن اور بدانتظامی کی شکایات پر ایف بی آر کے دو دفاتر کا معائنہ کیا گیا۔