اسلام آباد ۔ 17 جولائی (اے پی پی)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں کمی کیلئے وفاقی اور صوبائی سطح پر مشاورت جاری ہے، شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے تناظر میں بے ضابطگیوں میں ملوث شوگر ملز کے خلاف کارروائی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ …
چینی کی قیمتوں میں کمی کیلئے وفاقی اور صوبائی سطح پر مشاورت جاری ہے، شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے تناظر میں بے ضابطگیوں میں ملوث شوگر ملز کے خلاف کارروائی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 17 جولائی (اے پی پی)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں کمی کیلئے وفاقی اور صوبائی سطح پر مشاورت جاری ہے، شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے تناظر میں بے ضابطگیوں میں ملوث شوگر ملز کے خلاف کارروائی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ حکومت شوگر کمیشن کی انکوائری رپورٹ کے بعد مزید اقدامات کر رہی ہے، عوام کو اس سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب 2009ء میں چینی کا بحران پیدا ہوا تو مسابقتی کمیشن نے کارٹلائزیشن کی نشاندہی کی اور اس میں ملوث شوگر ملوں کو جرمانے کئے، اس وقت شوگر ملز ایسوسی ایشن اور دیگر ملوں نے اس پر حکم امتناعی لے لیا، یہ حکم امتناعی اب تک برقرار ہے، اس وقت کی حکومتوں نے اس حکم امتناعی کو ختم کرانے کیلئے کوشش نہیں کی، یہی ماضی کی حکومت اور موجودہ حکومت کی سوچ کا فرق ہے، موجودہ حکومت کے دور میں جب چینی کا بحران پیدا ہوا تو وزیراعظم عمران خان نے فوری طور پر انکوائری کمیشن تشکیل دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے شفاف، آزادانہ انکوائری کرائی اور وعدے کے مطابق انکوائری رپورٹ عوام کے لائے، ماضی میں کسی کمیشن کی رپورٹ پبلک نہیں کی گئی، عذیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ عدالت کے حکم پر سامنے لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے خلاف شوگر ملز ایسوسی ایشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے حکم امتناعی لے لیا تاہم حکومت کا مؤقف سننے کے بعد عدالت نے حکم امتناعی ختم کر دیا جس کے بعد ملز مالکان سندھ ہائی کورٹ چلے گئے اور وہاں سے حکم امتناعی لے لیا جس کو حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ حکم امتناعی ختم کر دیا اور متعلقہ ہائی کورٹس کو تین ہفتوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کے تحفظ کیلئے کھڑی ہے، اس بدعنوانی میں جو بھی ملوث ہوا اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ شوگر کمیشن کے ساتھ ساتھ آٹا بحران کی تحقیقات کیلئے بھی مختلف اقدامات تجاویز کئے گئے تھے، ان اقدامات کے تحت گندم خریداری میں اضافہ کیا گیا، اس رپورٹ میں گندم چوری کے حوالہ سے بھی بتایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے فوڈ پرائس کنٹرول کمیٹی کی خود صدارت کرتے ہیں، پنجاب میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 860 روپے میں دستیاب ہے، اگر کسی کو اس کی قیمت پر شکایت ہو تو وہ پنجاب حکومت کی ہیلپ لائن پر شکایت درج کرا سکتا ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ 2018ء میں پنجاب کی 667 فلور ملوں کو سبسڈی پر گندم فراہم کی گئی جس میں سے 149 فلور ملیں گندم کی چوری اور فکس ریٹ پر آٹا نہ دینے میں ملوث پائی گئیں، بعض ملوں نے ذخیرہ اندوزی بھی کی، ان تحقیقات میں مجموعی طور پر 254 ملین روپے کی خوردبرد سامنے آئی، اینٹی کرپشن پنجاب نے 190 ملین روپے کی ریکوری کر لی ہے، باقی ریکوری پر کام جاری ہے، فلور ملز مالکان کے خلاف فوجداری قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی، اس میں محکمہ فوڈ پنجاب کے 176 افسران بھی ملوث پائے گئے، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے بعد وفاقی کابینہ نے مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ معاملہ تحقیقات کیلئے بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ چینی کی قیمتوں میں ردوبدل کیلئے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی تھی، چینی کی قیمت میں ردوبدل کیلئے شوگر ملز ایسوسی ایشن کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، چینی کی قیمتوں کے حوالہ سے خامیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کیلئے شوگر ایڈوائزری بورڈ کے تحت کمیٹی بنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں الفاظ کا ردوبدل کر دیا گیا ہے اور تمام ادارے قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس معاملہ میں بے ضابطگیاں ہوئیں، یہ معاملہ نیب کو بھجوا دیا ہے، نیب احتساب آرڈیننس 1999ء کے تحت قانون کے مطابق اس پر کارروائی کرے گا، نیب اس کی ازسرنو تحقیقات کر سکتا ہے، اس کے ساتھ تفصیلی جے آئی ٹی رپورٹ منسلک کی گئی ہے، مسابقتی کمیشن آف پاکستان کو کارٹلائزیشن کی تحقیقات کیلئے 90 روز کا وقت دیا گیا ہے، وہ اپنے قانون کے مطابق کارروائی کرے گا، چینی کی برآمد اور چینی کے رہن رکھے گئے سٹاک میں بے ضابطگیوں اور جان بوجھ کر قرضوں کی عدم ادائیگی کا معاملہ سٹیٹ بینک اپنے قانون کے مطابق دیکھے گا اور جان بوجھ کر بینک نادہندگی کا معاملہ نیب کو بھیج سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک لمیٹڈ اور پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں نے کارپوریٹ فراڈ بھی کئے، یہ معاملہ ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو بھجوایا جا رہا ہے، وہ قانون کے مطابق اس پر کارروائی کریں گے۔








