نیشنل ہائی وے اتھارٹی بلوچستان میں روڈ نیٹ ورک کو ترقی اور وسعت دینے کے حکومتی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف عمل ہے، رواں مالی سال کے دوران بلوچستان کی متعدد جاری اور نئی سکیموں پر ترقیاتی کاموں کے لئے فنڈز مختص کئے گئے ہیں، حکام این ایچ اے

اسلام آباد ۔ 17 جولائی (اے پی پی) نیشنل ہائی وے اتھارٹی( این ایچ اے) بلوچستان میں روڈ نیٹ ورک کو ترقی اور وسعت دینے کے حکومتی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف عمل ہے، اس اقدام کے تحت رواں مالی سال کے دوران متعدد جاری اور نئی سکیموں پر ترقیاتی کاموں کے لئے فنڈز مختص کئے گئے ہیںـ این ایچ اے کے حکام نے بلوچستان میں اتھارٹی کے …

اسلام آباد ۔ 17 جولائی (اے پی پی) نیشنل ہائی وے اتھارٹی( این ایچ اے) بلوچستان میں روڈ نیٹ ورک کو ترقی اور وسعت دینے کے حکومتی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف عمل ہے، اس اقدام کے تحت رواں مالی سال کے دوران متعدد جاری اور نئی سکیموں پر ترقیاتی کاموں کے لئے فنڈز مختص کئے گئے ہیںـ این ایچ اے کے حکام نے بلوچستان میں اتھارٹی کے منصوبوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے اے پی پی کو بتایا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی بلوچستان کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور وفاقی حکومت کے ترجیحی منصوبہ جات کے بروقت اجراء اور تکمیل کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہی ہےـ ان منصوبوں میں سڑکوں کی اپ گریڈیشن، بحالی اور تعمیر و توسیع کے منصوبے شامل ہیںـ حکام نے بتایا کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کو ترقی ملے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوئے کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لانے میں مدد ملے گیـ انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں میںژوب ـ کچلاک چین پاکستان اقتصادی راہداری کا ایک اہم حصہ ہے جس کے لئے گزشتہ مالی سال 20ـ2019کے بجٹ میں سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت 3020 ملین روپے مختص کئے گئے تھے جو جاری کئے جا چکے ہیں جبکہ رواں مالی سال 21ـ2020 کے بجٹ میں سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت 10000 ملین روپے رکھے گئے ہیںـ بسیماـخضدار دو لین پر مشتمل ہائی وے کا منصوبہ بھی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے جس کے لئے گزشتہ مالی سال کے دوران 3200 ملین روپے مختص کئے گئے جس میں سے 1500 ملین روپے جاری کئے جا چکے ہیں جبکہ رواں مال سال کے بجٹ میں پی ایس ڈی پی کے تحت 106 کلو میٹر کے اس منصوبے کے لئے 4400 ملین روپے رکھے گئے ہیں، اس منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 19188 ملین روپے لگایا گیا ہےـ اسی طرح این 70کے راکھیـگج 32 کلومیٹر حصہ کو وسعت دینے اور آپ گریڈ کرنے کیلئے گزشتہ پی ایس ڈی پی میں 2339 ملین روپے مختص کئے گئے جس میں سے 999 ملین روپے 30 جون 2020 تک خرچ کئے جا چکے ہیں، منصوبے پر باقی ماندہ ترقیاتی کام رواں مالی سال کے دوران مکمل کیا جائے گاـ انہوں نے کہا کہ یکمچـخاران روڈ کی تعمیر کے لئے 3500 ملین روپے گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں رکھے گئے تھے جو جاری کئے جا چکے ہیںـ یک مچھـ خاران براستہ دوستین، واڑھ ، خورماگء بلیک ٹاپ روڈ کی تعمیر کے لئے رواں سال کے بجٹ میں 1500 ملین روپے مختص کئے گئے ہیںـ این ـ50 کے حصہ یاریکـ ساگوـ ڑوب کے منصوبے کیلئے گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں 1000 ملین روپے رکھے گئے تھے جس میں سے 500 ملین روپے جاری کئے جا چکے ہیںـ زیارت موڑ کیچ ـ کمال 102.7کلو میٹر اور ہمال ـ سنجاوی 55.1 کلومیٹر ڈیپازٹ ورک کی تعمیر کے لیے 100 ملین روپے رواں مالی سال کے بجٹ میں سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت مختص کئے گئے ہیںـ اس کے علاوہ کوئٹہـڈھادھڑ روڈ کی بحالی و اپ گریڈ کرنے اور چوڑا کرنے کے لئے 500 ملین روپے رکھے گئے جو جاری کر دیئے گئے ہیں 118.322 کلومیٹر کی یہ روڈ این ـ 65 کا حصہ ہےـ نیشنل ہائی وے این 25 کے حصے کرارو ـواڑھ کو وسعت دینے تعمیر و بحالی کے لئے گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں 350 ملین روپے مختص کئے گئے جو جاری کر دیئے گئے ہیں۔

مزید خبریں