ٹڈی دل 27 سالوں بعد پاکستان پر حملہ آور ہوئے ہیں ، فی الحال ان کے حملوں سے محدود پیمانے پر فصلوں کو نقصان ہوا ہے، زرعی پیداوار میں کمی کو دیکھتے ہوئے ٹڈی دل کے خاتمہ کے لئے فوری اقدامات ناگزیز ہیں، وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی سیّد فخر امام کا وائس آف امریکہ کو انٹرویو

اسلام آباد ۔ 17 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی سیّد فخر امام نے کہا ہے کہ ٹڈی دل 27 سالوں بعد پاکستان پر حملہ آور ہوئے ہیں لیکن فی الحال ان کے حملوں سے محدود پیمانے پر فصلوں کو نقصان ہوا ہے، زرعی پیداوار میں کمی کو دیکھتے ہوئے ٹڈی دل کے خاتمہ کے لئے فوری اقدامات ناگزیز ہیں، ٹڈی دل کے سدباب کے لئے 11 …

اسلام آباد ۔ 17 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی سیّد فخر امام نے کہا ہے کہ ٹڈی دل 27 سالوں بعد پاکستان پر حملہ آور ہوئے ہیں لیکن فی الحال ان کے حملوں سے محدود پیمانے پر فصلوں کو نقصان ہوا ہے، زرعی پیداوار میں کمی کو دیکھتے ہوئے ٹڈی دل کے خاتمہ کے لئے فوری اقدامات ناگزیز ہیں، ٹڈی دل کے سدباب کے لئے 11 جہاز منگوا لئے ہیں۔ وائس آف امریکہ کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ محکمہ موسمیات نے اس سال مون سون کے موسم میں عمومی بارشوں سے 10 فیصد زائد بارشوں کی پیش گوئی کی ہے جس سے خریف کی فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ غذائی تحفظ قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے ”این ڈی ایم اے” کے ساتھ مل کر پوری کوشش کرے گا کہ فصلوں کو بارشوں اور سیلاب سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ سے منسلک افراد کو کئی خطرات اور خدشات کا سامنا ہوتا ہے اور پیش گوئیوں کے ذریعے بارشوں، سیلاب اور ٹڈی دل کے حملوں کا تدارک کیا جا سکتا ہے لیکن مکمل طور پر تحفظ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فصلوں کی انشورنس پالیسی کو آسان بنایا جا رہا ہے تاکہ عام کسان بھی اس سے مستفید ہو سکے۔ انہوں نے کہا کے کہ پاکستان میں زراعت کا شعبہ اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ٹڈی دل کے حملوں کا بھی شکار ہے اور محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مون سون کی بارشیں ٹڈی دل کی افزائش کے لئے موزوں ماحول فراہم کریں گی۔ موسمیاتی تبدیلیاں اور ٹڈی دل کے حوالے سے وزیر برائے غذائی تحفظ کا کہنا ہے کہ ٹڈی دل کی افزائشِ نسل پاکستان کی زراعت کے لئے بڑا خطرہ ہے جس کے تدارک کے لئے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال اکتوبر، نومبر میں غیر روایتی بارشوں کے باعث ٹڈی دل بھارتی علاقے راجستھان اور پاکستان کے بارڈر کے نزدیک رک گئے اور وہیں اس کی افزائش نسل کے باعث ٹڈی دل ان علاقوں میں بھی پھیل گیا جہاں پہلے کبھی نہیں پہنچا تھا۔ انہوں نے کہا کے ٹڈی دل نے پاکستان کے تمام صوبوں کو متاثر کیا ہے۔ تاہم ان کے بقول ٹڈی دل کے حملوں کے نتیجہ میں کسی بھی علاقے میں فصلوں کو 50 فی صد تک نقصان نہیں پہنچا۔اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے تحفظِ خوراک کے مطابق اگر پاکستان کی 25 فی صد زرعی پیداوار ٹڈی دل سے متاثر ہوتی ہے تو ملک میں اجناس کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ پاکستانی معیشت کو پانچ ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے ٹڈی دل کے سدِ باب کے لئے ہنگامی حالت کا نفاذ کرتے ہوئے اس کے لئے 26 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں ایک جامع حکمت عملی کے تحت ٹڈیوں کے خاتمہ پر کام کر رہے ہیں۔سید فخر امام نے کہا کہ 27 سال کے بعد ٹڈی دل دوبارہ زراعت کے لئے خطرہ بنا ہے۔ اس سے قبل سن 1992 میں فصلوں کو ٹڈی دل سے نقصان پہنچا تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس عرصے کے دوران فصلوں کے تحفظ کا محکمہ بالکل ختم ہو گیا جسے دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت غذائی تحفظ کے تین جہاز اور پاک فوج سے لیے گئے پانچ ہیلی کاپٹروں سے کیمیائی اسپرے کے ذریعے ٹڈیوں کی افزائش روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔سیدفخر امام نے کہا کہ حکومت اسپرے کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے مزید 11 جہاز حاصل کر رہی ہے جو رواں ماہ ہی پاکستان پہنچ جائیں گے۔انہوں نے کہا کے کہ ان دنوں پاکستان میں زرعی رقبے پر ایران، عمان اور افریقی ممالک سمیت پاکستان کے صحرائی علاقوں میں نشوونما پانے والے ٹڈی دل حملہ آور ہیں۔ فخر امام نے بتایا کہ زرعی رقبہ پر ٹڈی دل کے حملے کے بعد ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹڈی دل کے حملوں سے چاروں صوبوں میں فصلوں کو نقصان ہوا ہے اور رواں سال زرعی پیداوار کی کمی کا اندیشہ ہے تاہم اس کے باوجود ان کے بقول ملک میں غذائی قلت کا فوری خطرہ پیدا نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کے ٹڈی دل نے پاکستان کے تمام صوبوں کی متاثر کیا ہے۔ تاہم ان کے بقول ٹڈی دل کے حملوں کے نتیجہ میں کسی بھی علاقے میں فصلوں کو 50 فیصد تک نقصان نہیں پہنچا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال پانچ کروڑ 70 لاکھ ایکڑ رقبہ ٹڈی دل کے حملوں کی زد میں آیا جس میں سے 2 کروڑ 30 لاکھ ایکڑ زرعی رقبہ تھا۔ وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ کا مزید کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہونے والی غیر معمولی بارشوں کے سبب رواں سال گندم کا پیداواری ہدف حاصل نہیں ہوسکا اور 15 لاکھ ٹن کی کمی کو پورا کرنے کے لئے حکومت نے ابھی سے نجی شعبہ کو گندم درآمد کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان زرعی ملک ہونے کے باعث اپنی خوراک کی ضروریات میں کافی حد تک خود کفیل ہے بلکہ ہماری معیشت کا دارومدار بھی زراعت پر ہی ہے۔اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن (ایف اے او) نے اپنی ایک رپورٹ میں پاکستان میں ٹڈی دل کے حملوں سے غذائی تحفظ کے بحران کا خدشہ ظاہر کر رکھا ہے۔انہو نے کہا کے زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور غذائی ضروریات کے ساتھ ساتھ ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں اس کا حصہ 19.3 فی صد ہے۔انہوں نے کہا کہ زراعت کا جی ڈی پی میں بالواسطہ حصہ بھی 20 فی صد کے قریب ہے۔ کیونکہ ملکی صنعت کا 70 سے 80 فیصد خام مال بھی زراعت سے ہی جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کے ملک کی 42 فیصد افرادی قوت زراعت سے وابستہ ہے، اسی بنا پر زراعت کو حکومت نے اولین ترجیح قرار دیا ہے اور گزشتہ 20 سال سے نظر انداز اس شعبہ پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی وزارت غذائی تحفظ تحقیق اور کاشت کاری کے جدید انداز اپنانے کے ساتھ ساتھ زرعی اشیا کی برینڈنگ پر بھی خاص توجہ دے رہی ہے۔ پاکستان میں زراعت کا شعبہ اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ٹڈی دل کے حملوں کا بھی شکار ہے اور محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مون سون کی بارشیں ٹڈی دل کی افزائش کے لئے موزوں ماحول فراہم کریں گی۔ پہلے قوانین ہی نہیں بنائے گئے تھے۔ 20 سال کے بعد اب جا کر ‘برانڈز ایکٹ’ اور ‘سیڈ ایکٹ کو منظور کیا۔ اس کی عدم موجودگی کی وجہ سے بھارت نے ہمارا باسمتی چاول رجسٹر کرا لیا۔فخر امام نے بتایا کہ 100 کے قریب زرعی اجناس و اشیا کی برینڈنگ کر رہے ہیں جن میں گلگت بلتستان اور صوبہ بلوچستان کا پھل چیری، چیکو، انگور، آم، کینوں، آڑو اور سیب وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پھلوں اور زرعی اشیا کی بیرون ممالک ترسیل کے لئے پیکنگ کے معیار کو بہتر بنا رہے ہیں تاکہ ان مصنوعات کی قیمت میں اضافہ ہو اور نتیجتاً ملک کی برآمدات بڑھیں۔

مزید خبریں