وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کی وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ

اسلام آباد ۔ 21 جولائی (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کے لئے اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ءمیں مجوزہ ترامیم، ضابطہ فوجداری قوانین میں ترامیم، سنگل ٹریژری بینک اکاﺅنٹ کے قواعد میں تبدیلی اور نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی ریسپانڈ ایکٹ کی منظوری دی ہے، نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی ریسپانڈ ایکٹ کا مقصد کسی بھی قدرتی آفت کی صورت میں …

اسلام آباد ۔ 21 جولائی (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کے لئے اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ءمیں مجوزہ ترامیم، ضابطہ فوجداری قوانین میں ترامیم، سنگل ٹریژری بینک اکاﺅنٹ کے قواعد میں تبدیلی اور نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی ریسپانڈ ایکٹ کی منظوری دی ہے، نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی ریسپانڈ ایکٹ کا مقصد کسی بھی قدرتی آفت کی صورت میں وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی قائم کرنا ہے، وفاقی کابینہ نے پی ٹی وی لائسنس فیس 35 روپے سے بڑھا کر 100 روپے کرنے کی تجویز پر فیصلہ آئندہ اجلاس تک مو¿خر کر دیا، وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق پہلی مرتبہ معاونین خصوصی نے بھی اپنے اثاثے ظاہر کر دیئے ہیں، وزیراعظم نے واضح ہدایت کی کہ گندم اور آٹے کی دستیابی و فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے۔ منگل کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے ٹی وی لائسنس فیس 35 سے بڑھا کر 100 روپے کرنے کی تجویز پر غور کیا، پی ٹی وی کی تنظیم نو کی منظوری ہو چکی ہے اور پی ٹی وی معاملات کو ٹھیک کرنے کیلئے لائسنس فیس بڑھانے کی تجویز دی گئی تھی، مختلف آراءسامنے آنے پر پی ٹی وی لائسنس فیس بڑھانے کا معاملہ اگلے ہفتے تک مﺅخر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی وی کی شاندار تاریخ ہے ،اس طرح کے ادارے عظمت کے نشان تھے لیکن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ریاستی اداروں میں بدانتظامی اور میرٹ کے برعکس بھرتیوں سے اداروں کو زمین بوس کر دیا ہے جس ادارے کو دیکھیں اس میں یہی حال ہے ، موجودہ حکومت پی ٹی وی ،سٹیل مل سمیت تمام اداروں کو دوبارہ اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنا چاہتی ہے کیونکہ یہ ادارے ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے وزیراعظم عمران خان کے اپنی کابینہ میں شامل معاونین کے اثاثہ ظاہر کرانے کے فیصلے کو بھی سراہا ہے ،پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا ، وزیراعظم عمران خان چاہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندوں کی طرح معاونین خصوصی جو کابینہ کا حصہ ہیں، ان کے بارے میں بھی عوام کو پتہ ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ ہفتے دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کو آگے لیکر چلنے کا عمل باقاعدہ شروع کر دیا گیا ہے ، سستی بجلی پیدا اور پانی کا ذخیرہ کیا جاسکے، ایوب خان کے دور کے بعد ایسا کوئی بڑا منصوبہ شروع نہیں ہوا ، اس کے ثمرات پوری قوم کو ملیں گے۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے اشتہارات کے بقایا جات کی عدم ادائیگی پر برہمی کا اظہار کیا اورتمام وزارتوں کو بقایا جات کی ادائیگی کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیاہے، وزارت اطلاعات کو دوسری وزارتوں سے جیسے ہی فنڈز ملتے ہیں بقایا جات ادا کر دیئے جائیں گے۔اجلاس میں گندم اورآٹے کی قیمت بڑھنے پر وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں سے بریفنگ لی۔ وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم نے واضح ہدایت کی کہ گندم اور آٹے کی دستیابی و فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں،عیدالاضحیٰ پر کورونا وائرس کے بچاﺅ کے قوائد و ضوابط پر سختی سے عمل کرنا ہو گا۔وفاقی کابینہ نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری وقف املاک ایکٹ کی بھی منظوری دی ۔انہوں نے بتایا کہ سستے گھروں کی تعمیر میں بنکوں کے ذریعے لوگوں کومارک اپ میں چھوٹ دی گئی ہے، کابینہ اجلاس میں احساس ایمرجنسی کیش پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ کو احساس پروگرام سے متعلق بریفنگ دی، وزیراعظم اور انکی کابینہ نے ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا ، یہ ایسا پروگرام ہے جس کی شفافیت پر سیاسی مخالفین نے بھی سوال نہیں اٹھایا۔ کابینہ اجلاس میں اس بارے کہا گیا کہ اس پروگرام سے ہمیں کیا سیاسی فائدہ ہوگا جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ احساس پروگرام سیاسی مفاد کیلئے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کیلئے شروع کیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے یتیموں کی سہارا خاتون کے انتقال اور تربت دھماکے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ۔ وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اسلام آباد سے صحافی کے مبینہ اغوا ءکے معاملے کی خبر کابینہ اجلاس کے بعد ملی، اس معاملے پر فوری وزیر داخلہ سے ٹیلی فون پررابطہ کیا،ہماری کوشش ہو گی کہ مغوی صحافی کا جلد سے جلد پتہ چلایا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کراچی میں لوڈشیڈنگ کی صورتحال ایک سے 2روز میں بہتر ہو جائے گی۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی کی تنظیم نو کے لیے مالی وسائل کی ضرورت ہے،وفاقی کابینہ نے اگر ٹی وی فیس میں اضافے کی منظوری دیدی تو 6ماہ میں پی ٹی وی کی صورتحال یکسر مختلف ہو گی، پی ٹی وی سمیت قومی اداروں کی تباہی کی ذمہ دار سابقہ حکومتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے خلاف بات کرنے والوں نے اپنے دور حکومت میں قومی اداروں کو تباہ کر دیا،عدالت سے سرخرو ہو کر نیب پر تنقید کرنے والوں نے ہی سٹیل مل،پی ٹی وی ، پی آئی اے سمیت عظمت کے نشان تمام ادارں کو تباہ کردیا ہے اور انہی لوگوں نے ماضی میں اپنی اپنی حکومتوںمیں نیب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے ، کمزور پراسیکیوشن سے عدالت سے بری ہونے والے فرشتہ نہیں بن گئے۔