مشیرخزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس، نیاپاکستان ہاﺅسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کیلئے مارک اپ سبسڈی کی منظوری

اسلام آباد ۔ 22 جولائی (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نیاپاکستان ہاﺅسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کیلئے مارک اپ سبسڈی کی منظوری دیدی، مکانوں کیلئے بینکوں سے قرضہ پرمارک اپ میں زر تلافی کا عرصہ 10 سال ہوگا، 5 مرلہ مکان کیلئے قرضہ پرپہلے پانچ سالوں میں مارک اپ کی شرح 5 فیصد اورآنیوالے پانچ سالوں میں 7 فیصد ہوگی، 10 مرلہ مکان پرحاصل قرضہ پرپہلے پانچ …

اسلام آباد ۔ 22 جولائی (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نیاپاکستان ہاﺅسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کیلئے مارک اپ سبسڈی کی منظوری دیدی، مکانوں کیلئے بینکوں سے قرضہ پرمارک اپ میں زر تلافی کا عرصہ 10 سال ہوگا، 5 مرلہ مکان کیلئے قرضہ پرپہلے پانچ سالوں میں مارک اپ کی شرح 5 فیصد اورآنیوالے پانچ سالوں میں 7 فیصد ہوگی، 10 مرلہ مکان پرحاصل قرضہ پرپہلے پانچ سال مارک اپ کی شرح 7 فیصد اور آنیوالے 5 سالوں میں 9 فیصد ہوگی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو یہاں وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں سال2020-21 ءکیلئے پاسکو سے پاکستان آرمی کیلئے ادائیگی کی بنیاد پر ایک لاکھ50 ہزارمیٹرک ٹن گندم مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں پی ٹی بی آرڈیننس 1968کے دفعہ (1 )8 کے تحت پرائس اینڈ گریڈ ریوژن کمیٹی کی سفارشات پرتمباکو کی قیمتوں کی منظوری بھی دی گئی۔ای سی سی نے وزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق کوقیمتوں کے تعین کے طریقہ کار اورنظام میں خامیوں کی نشاندہی کرکے اس بارے ای سی سی کو تفصیلی پریزینٹیشن دینے کی ہدایت کی،اجلاس میں نیاپاکستان ہاﺅسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی تجویز پرہاﺅسنگ فنانس کیلئے مارک اپ سبسڈی کی منظوری دی گئی ۔ وزیراعظم عمران خان نے 10 جولائی 2020ءکو کورونا وائرس کی وباءسے متاثرہ معیشت کی بحالی کیلئے اقدامات کے ضمن میں ہاﺅسنگ اورتعمیرات کے شعبہ کیلئے خصوصی مراعات کا اعلان کیا تھا۔مکانوں کیلئے بینکوں سے قرضہ پرمارک اپ میں زرتلافی کا عرصہ 10 سال ہوگا،اس کے تحت 5 مرلہ مکان کیلئے قرضہ پرپہلے پانچ سالوں میں مارک اپ کی شرح 5 فیصد اورآنیوالے پانچ سالوں میں 7 فیصد ہوگی، 10 مرلہ مکان پرحاصل قرضہ پرپہلے پانچ سال مارک اپ کی شرح 7 فیصد اورآنیوالے 5 سالوں میں 9 فیصد ہوگی۔زرتلافی کا اطلاق 3 سے لیکر5 مرلہ کے ان مکانوں پرہوگا جن کی مالیت 35لاکھ روپے اور10 مرلہ مکانوں کیلئے 60 لاکھ روپے سے سے زائد نہ ہوں۔ مارک اپ پرزرتلافی کی مد میں 10 برسوں کیلئے 33 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ، جاری مالی سال کیلئے زرتلافی کی مد میں 4.77 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے این سی اوسی کے سٹیک ہولڈرز اورحکومتی محکموں کیلئے سسٹمز کی تنصیب ، ڈیٹا اینالیسز، ماڈلنگ اور موبائل ایپس کے ضمن میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن اوراین آئی ٹی بی کیلئے 4 کروڑ 18 لاکھ روپے مختص کرنے کی منظوری دی۔ای سی سی نے وزارت خزانہ کی مشاورت سے بجٹ میں ممکنہ کمی کی بھی ہدایت کی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وفاقی حکومت کے تعاون سے بلوچستان منرل ایکسپلوریشن کمپنی لیمیٹڈ کے قیام کی منظوری بھی دی۔یہ حکومت پاکستان اورحکومت بلوچستان کا مشترکہ منصوبہ ہوگا، شئیرز ہولڈنگ کے ضمن میں 10 فیصد رقم (320 ملین روپے) پاکستان منرل ڈولپمنٹ کارپوریشن کے زریعہ دو برابر قسطوں میں دئیے جائیں گے۔ پٹرولیم ڈویژن اورپی ایم ڈی سی کو شئیرہولڈرایگری منٹ اورتمام قانونی، ضابطہ جاتی اورکارپوریٹ تقاضوں کو پوراکرنے کے مجاز ہوں گے۔ ای سی سی میں کورونا وائرس کے اثرات سے نمٹنے کیلئے وزیراعظم کے اعلان کردہ امدادی پیکج میں سے زراعت اورایس ایم ایز کیلئے 100 ارب روپے کے مختص فنڈز کے بہتر استعمال کی تجویز کا جائزہ لیا گیا، وزارت کی درخواست پرای سی سی نے نائیٹروجن کی حامل کھادوں کیلئے 15.7 ارب روپے کو فاسفیٹ اور پوٹاش کی طرف موڑنے کی منظوری دیدی۔اجلاس میں سفید مکھی کے خاتمہ کیلئے کیڑے مارادویات پر سبسڈی کی فوری فراہمی اورتقسیم کی منظوری بھی دی گئی ۔ اجلاس میں ٹریکٹروں پرسبسڈی کیلئے 1.5 ارب روپے اور 12.5 ایکڑ اراضی کیلئے قرضوں میں مارک اپ کے ضمن میں 6.8 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔ای سی سی نے وزارت کو مختلف زرتلافیوں میں شفافیت کے حوالہ سے نگرانی کرنے اوراس کا فائدہ چھوٹے کاشت کاروں تک منتقل کرنے کیلئے اقدامات کی ہدایت بھی کی۔