روسی اور امریکی صدور کا یوکرین تنازع پر ٹیلی فونک رابطہ، مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان منگل کو ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی جسے کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے تعمیری اور انتہائی کھلی قرار دیا ہے۔

ماسکو ۔9ستمبر (اے پی پی):روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان منگل کو ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی جسے کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے تعمیری اور انتہائی کھلی قرار دیا ہے۔

شنہوا کے مطابق یوری اوشاکوف نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ اس دوران صدر پیوٹن نے واضح کیا کہ روس کے یورپی ممالک کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک کے خلاف روسی خطرے سے متعلق قیاس آرائیاں دراصل یوکرین کے لیے حمایت بڑھانے اور اپنے دفاعی اخراجات میں اضافے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔کریملن کے معاون کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین تنازع کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ تنازع کے خاتمے سے روس اور امریکا کے تعلقات کی مکمل بحالی کے لیے وسیع اور امید افزا امکانات پیدا ہوں گے۔دونوں رہنماؤں نے انسانی بنیادوں پر مسائل کے حل کے لیے کوششیں جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا، جن میں زیر حراست اور سزا یافتہ افراد کا تبادلہ بھی شامل ہے۔یوری اوشاکوف نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ دونوں صدور کے درمیان ہونے والی گفتگو مکمل طور پر خفیہ تھی۔