وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیرصدارت قومی نصابی کونسل کا اجلاس، ٹیکسٹ بکس کی تیاری کے حوالے سے مختلف آراءپیش کی گئیں

اسلام آباد ۔ 22 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے تیسری قومی نصابی کونسل میٹنگ کی صدارت کی۔ تین گھنٹے تک جاری رہنے والی میٹنگ میں صوبائی وزراءتعلیم اور متعلقہ سیکرٹریز، فیڈرل گورنمنٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز، آرمی پبلک سکول، پاکستان ایئرفورس، نیوی کے سکولز کے نمائندگان ، پرائیویٹ سیکٹر، اتحاد تنظیم المدارس پاکستان، اقلیتی نمائندوں اور معروف ایجوکیشنسٹ نے شرکت کی اور اپنی …

اسلام آباد ۔ 22 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے تیسری قومی نصابی کونسل میٹنگ کی صدارت کی۔ تین گھنٹے تک جاری رہنے والی میٹنگ میں صوبائی وزراءتعلیم اور متعلقہ سیکرٹریز، فیڈرل گورنمنٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز، آرمی پبلک سکول، پاکستان ایئرفورس، نیوی کے سکولز کے نمائندگان ، پرائیویٹ سیکٹر، اتحاد تنظیم المدارس پاکستان، اقلیتی نمائندوں اور معروف ایجوکیشنسٹ نے شرکت کی اور اپنی اپنی تجاویز و تاثرات پیش کئے۔ وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے کہا کہ یکساں قومی نصاب پر چاروں صوبوں میں ورکشاپس ہوئیں اور قومی سطح پر چار روزہ ورکشاپ بھی منعقد کی گئی جس پر اتفاق رائے سے ڈرافٹ تیار ہوا جس کو قومی نصاب کونسل کے تمام ممبران کو باضابطہ طور پر بھجوایا گیا۔ اجلاس میں تمام شرکاءنے اس پر اتفاق کیا قومی نصاب کی تشکیل کا عملی قدم حکومت کی درست سمت کی طرف نشاندہی کرتا ہے اور اس وقت کی اہم ضرورت ہے۔وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے کہا کہ یکساں قومی نصاب ہم سب کے دلوں کے بہت قریب ہے یہ طبقاتی نظام تعلیم کو ختم کرنے میں ممدو معاون ثابت ہو گا۔ وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ یکساں قومی نصاب میں زبان کے مسئلے پر کوئی ابہام نہیں ہے۔ جس زبان میں بچے کو بہتر سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے اساتذہ اسی زبان میں پڑھائیں گے۔ تاہم نصابی مندرجات و مواد میں یکسانیت ہوگی۔ انگریزی کو لینگوئج کے طور پر پڑھایا جائے گا۔ ٹیکسٹ بکس کی تیاری کے حوالے سے مختلف آراءپیش کی گئیں۔ اکثر شرکاءنے اظہار کیا کہ حکومت ایک ماڈل ٹیکسٹ بک تیار کرے جوکہ تمام صوبوں اور اکائیوں کے لئے بنچ مارک ہو۔ وفاقی وزیر نے کہا صوبے اضافی مواد بھی متعارف کرا سکتے ہیں تاہم یہ خیال رکھا جائے کہ بچوں پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔ وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ یکساں نظام تعلیم کا بنیادی مقصد تعلیم کے حصول میں ناانصافیوں کا خاتمہ اورعلم و تعلیم کے میدان میں طبقاتی خلیج کا سدباب کرنا ہے۔ شاہ عبدالطیف بھٹائی صرف سندھ کے ہیرونہ سمجھے جائیں بلکہ وہ باقی صوبوں کے اور ان کی عوام کے بھی اتنے ہی ہیرو سمجھے جائیں اور یہ تبھی ممکن ہے جب نصابی مندرجات اور مواد یکساں ہوں گے۔ آخر میں وفاقی وزیر تعلیم نے تمام شرکاءکی گرمجوش شرکت اور ان کی قیمتی تجاویز کے لئے اظہار تشکر کیا۔