اسلام آباد ۔ 22 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات و چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ پاک۔چین اقتصادی راہداری (سی پیک) پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی ترجیحات یکساں ہیں، سیاحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور زراعت کو سی پیک میں شامل کر لیا گیا ہے، حکومت سستی بجلی بنانے کی طرف جا رہی ہے، …
چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات و چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ پاک۔چین اقتصادی راہداری (سی پیک) پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی ترجیحات یکساں ہیں، سیاحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور زراعت کو سی پیک میں شامل کر لیا گیا ہے، حکومت سستی بجلی بنانے کی طرف جا رہی ہے، بڑے ڈیمز نہ صرف زراعت کیلئے فائندہ مند ہوں گے بلکہ ہائیڈرل پاور جنریشن میں بھی معاون ثابت ہوں گے، چین کی بڑی کمپنیاں کارپوریٹ فارمنگ میں دلچسپی لے رہی ہیں۔بدھ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان کیلئے تاریخی موقع اور گیم چینجر ہے، اس وقت خطے کے اندر حالات بہتر ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور پاکستان سی پیک حالات سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہے، وزیراعظم عمران خان نے سی پیک منصوبوں میں رکاوٹ پر رہنمائی کی یقین دہانی کرائی ہے، انہوں نے مجھے سی پیک منصوبوں پر تیزی سے کام کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک اتھارٹی کے قیام کا مقصد ون ونڈوآپریشن ہے تاکہ ایک ہی جگہ سے تمام وزارتوں، صوبوں اور اداروں کے ساتھ مل کر سی پیک کے منصوبوں کو ہینڈل کیا جا سکے اور اسطرح کمپنیوں کو بھاگنا نہیں پڑے گا۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت تھی کہ اس وقت چین اکنامک سپر پاور ہے اور ہمیں اس کے تجربات سے ہر صورت فائدہ اٹھانا ہے، اسلئے ہم چاہتے ہیں کہ سی پیک کے کسی پروجیکٹ پر کام رکنا نہیں چاہیے بلکہ ان کو اور تیز کرنا ہے، وزیراعظم نے منصوبوں پر رکاوٹ پر رہنمائی کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے باوجود سی پیک کے تمام پروجیکٹس پر کام جاری ہے، کورونا کے باوجود چین سے لوگ کام کیلئے آئے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ کمیونیکشن انفراسٹرکچر اور توانائی منصوبے جاری ہیں، سی پیک انرجی کے 17 میں سے 9 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، سی پیک انرجی کے 8 منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے پروجیکٹ پر دستخط ہو چکے ہیں۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات نے کہا کہ ڈی آئی خان موٹروے پر کام جاری ہے ژوب تک لیکر جائیں گے، اس کے علاوہ ہوشاب سے آواران کی سڑک پر کام شروع کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 9 میں سے 3اسیپشل اکنامک زونز ابتدائی ترجیحات میں شامل ہیں، رشکئی اکنامک زون کیلئے ایک ہزار ایکڑ زمین لے چکے ہیں، رشکئی پر ترقیاتی معاہدے کی رسمی کارروائی مکمل ہو گئی ہے، فیصل آباد میں اسپیشل اکنامک زون کا سنگ بنیاد رکھا جا چکا ہے، کراچی کے قریب دھابیجی اکنامک زون کا ٹینڈر کل کھلے گا، دھابیجی اکنامک زون کیلئے کمپنیاں دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں۔ چیئرمین سی پیک نے کہا کہ سی پیک کے ذریعے زراعت کی جانب بڑھیں گے، زراعت کا شعبہ پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، چینی اسٹڈی گروپ کے ساتھ مل کر زرعی تحقیق پر کام کر رہے ہیں، چینی کمپنیاں کارپوریٹ فارمنگ میں دلچسپی لے رہی ہیں، ہمارے بزنس ہاﺅسز اور چائنیز کمپنیاں مل کر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک سائنس و ٹیکنالوجی جوائنٹ ورکنگ گروپ بن گیا ہے، سی پیک پر محنت کشوں اور افرادی قوت کو شامل کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبوں میں سیاحت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر سستی بجلی کی پیداوار کی جانب بڑھنا ہے، ہائیڈل پاور سے سستی ماحول دوست توانائی حاصل کریں گے، درآمد شدہ کوئلے کے بجائے مقامی کوئلے سے بجلی بنانی ہے، مقامی کوئلے کے ذریعے سستی بجلی بنائیں گے۔








