اسلام آباد ۔ 29 جولائی (اے پی پی) جب دنیا کے بہت سے ممالک سے کورونا کے ہزاروں کیسز سامنے آنے کی اطلاعات مل رہی ہیں تاہم پاکستان میں اس وباءکی صورتحال زیادہ پریشان کن نہیں ہے۔ نیشل کمانڈ اینڈ آپریشنل سنٹر کی رپورٹ کے مطابق کورونا کے علاج کیلئے قائم ملک بھر میں 734 ہسپتالوں میں اس وقت ایک ہزار 879 مریض داخل ہیں۔ ملک بھر میں اب تک …
کورونا کے علاج کیلئے قائم ملک بھر میں 734 ہسپتالوں میں اس وقت ایک ہزار 879 مریض داخل ہیں، اب تک 2 لاکھ 44 ہزار 883 مریض صحت یاب ہوئے ہیں ، نیشل کمانڈ اینڈ آپریشنل سنٹر کی رپورٹ
مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 جولائی (اے پی پی) جب دنیا کے بہت سے ممالک سے کورونا کے ہزاروں کیسز سامنے آنے کی اطلاعات مل رہی ہیں تاہم پاکستان میں اس وباءکی صورتحال زیادہ پریشان کن نہیں ہے۔ نیشل کمانڈ اینڈ آپریشنل سنٹر کی رپورٹ کے مطابق کورونا کے علاج کیلئے قائم ملک بھر میں 734 ہسپتالوں میں اس وقت ایک ہزار 879 مریض داخل ہیں۔ ملک بھر میں اب تک 2 لاکھ 44 ہزار 883 مریض صحت یاب ہوئے ہیں جو ایک نمایاں تعداد ہے۔ ملک بھر میں کورونا کیلئے مختص کئے گئے ایک ہزار 859 وینٹیلیٹرز میں سے 227 وینٹیلیٹرز پر کورونا کے مریض ہیں۔ ملک بھر میں کورونا کے کل ٹیسٹس 19 لاکھ 9 ہزار 846 ہیں جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 21 ہزار 256 ٹیسٹس کئے گئے، صرف 936 کیسز سامنے آئے ہیں۔ پاکستان معمول کے مطابق وباءسے نمٹنے کی ماضی کی روایت کے برعکس شواہد پر مبنی ٹیکنالوجی کے طریقہ کار پر عمل کر رہا ہے کیونکہ اس طریقہ کار سے پاکستان کو کورونا وباءپر جلد قابو پانے میں مدد ملی ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے وباءکی شدت میں کمی کے حوالہ سے کہا کہ گذشتہ تین ماہ کے دوران پاکستان میں کورونا وباءسے اموات کی شرح بہت کم ہے۔ 20 جون کو 153 اموات بلند ترین تعداد تھی جبکہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں صرف 20 اموات ہوئی ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کورونا وباءمیں 87 فیصد کمی آئی ہے۔ حکومت کی مو¿ثر حکمت عملی کے باعث ملک میں کورونا کیسز میں کمی آ رہی ہے اور صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ وزارت صحت کے مطابق پاکستان نے ٹیکنالوجی اور سمجھداری کا مظاہرہ کیا۔ این سی او سی کے قابل بھروسہ اعداد و شمار اور معلومات کی بنیاد پر فیصلے کئے گئے۔ ڈیٹا کلیکشن، اتحاد اور معلومات پر مبنی فیصلے سے ہماری کوششوں کو تقویت ملی، ہماری حکمت عملی تیزی سے ٹیسٹنگ، کنٹیکٹ ٹریسنگ اور آئسولیشن، ہسپتالوں میں داخل مریضوں کو خدمات کی فراہمی یقینی بنانے، طبی سہولیات کی کمی کا جائزہ لینا اور مقامی سطح پر اس کی فراہمی یقینی بنانا تھا۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر میں قومی رابطہ کار لیفٹیننٹ جنرل حمود الزمان اور ڈی جی آپریشن اینڈ پلاننگ این سی او سی میجر جنرل آصف محمود گورائیہ نے این سی او سی کے فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے دن رات کام کیا۔ این سی او سی کی ٹیم نے وباءسے نمٹنے کیلئے ملک کے صحت عامہ کے نظام کی بہتری کے ساتھ ساتھ ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کی استعداد کار میں اضافہ، مریضوں کیلئے دستیاب بیڈز میں اضافہ، ضروری ادویات کی بلاتعطل فراہمی، مریضوں کی تلاش اور بیماری کے اعداد و شمار کیلئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق وفاقی اکائیوں کے درمیان روابط کیلئے شاندار مربوط طریقہ کار وضع کیا۔ این سی او سی نے مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور آٹو ٹریس اور این آئی ٹی وی کے نقشوں کو استعمال کرتے ہوئے کورونا وائرس سے متاثرہ 30 شہروں کی نشاندہی کی۔ ملک بھر میں اس پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہوئے 30 لاکھ سے 80 لاکھ آبادی جہاں پر 10 سے 30 فیصد کورونا متاثرہ افراد کی نشاندہی ہوئی وہاں پر اب تک 300 سے 500 سمارٹ لاک ڈاﺅن کا نفاذ کیا گیا۔








