اسلام آباد ۔ 4 اگست (اے پی پی) گذشتہ سال پانچ اگست کو بھارتی کی طرف سے غیر قانونی بھارتی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ذریعے اس علاقے میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے بھارتی عزائم کے خلاف پاکستان نے عالمی سطح پر بھر پور سفارتی مہم چلائی ۔ اس مہم کے ذریعے عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں کو بھارت کے غیر جمہوری اور …
پاکستان نے غیر قانونی بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے بھارتی عزائم کے خلاف عالمی سطح پر بھر پور سفارتی مہم چلائی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 4 اگست (اے پی پی) گذشتہ سال پانچ اگست کو بھارتی کی طرف سے غیر قانونی بھارتی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ذریعے اس علاقے میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے بھارتی عزائم کے خلاف پاکستان نے عالمی سطح پر بھر پور سفارتی مہم چلائی ۔ اس مہم کے ذریعے عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں کو بھارت کے غیر جمہوری اور انسانی حقوق و بین الاقوامی قوانین کے خلاف مذموم اقدامات سے آگاہ کیا گیا ۔ بھارتی غیر قانونی اردادوں کو بھانپتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی غرض سے یکم اگست 2019 کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوترش کو ایک خط تحریر کیا جس میں مقبوضہ کشمیر میںا نسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی سنگین خلاف ورزیوں ،سری نگر میں اضافی فورسز تعینات کرنے کے حوالے سے بھارتی کے متوقع غیر قانونی اقدامات سے اگاہ کر دیا گیا اور اقوام متحدہ پر واضح کر دیا گیا کہ پاکستان کسی بھی ایسے ممکنہ بھارتی اقدام کی بھر پور مخالفت کریگا جس سے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی جاسکے۔اس دطرح وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے 2 اگست 2019 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر ماریا فرنانڈو اسپنوزا گارسز کو بھی ایک خط میں انہی خدشات کا اظہار کیا۔ 4اگست 2019ء کو وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشعل بچلٹ جیریا کو بھی ایک خط تحریر کیا اور ان کو مقبوضہ کشمیر میں انسنای حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں، بھارتی مظالم،ایل او سی کی مسلسل خلاف ورزیوں سری نگر میں دس ہزار اضافی فوج کی تعیناتی کے حوالے سے آگاہ کیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے 5 اگست کو بھارتی غیر قانونی اقدامات اور اس کے بعد خطے میں امن و امان کو در پیش خطرات سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی طرف سے عالمی سطح پر سفارتی کوششین تیز کردیں اور40 سے زائد ممالک کے وزراء خارجہ سے رابطے کئے اور انہیں ڈومیسائل قواعد میں تبدیلی کے زریعے مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تناسب تبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔اس کے علاوہ وزیر خارجہ نے صدر سکیورٹی کونسل اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خظوط ارسال کئے اور انہیں بھارتی عزائم سے آگاہ کیا۔6 اگست 2019 کو وزیر خارجہ نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو کشمیر کی تشویشناک صورتحال پر ایک خط لکھا اور مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا نوٹس لے۔13اگست2019کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر کے حوالے سے سلامتی کونسل کو خط لکھا جس میں بھارت کے غیر قانونی اقدامات کو زیر بحث لانے کیلئے سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس طلب کرنیکا مطالبہ کیا گیا ۔ 17اگست2019 کو سلامتی کونسل کے 15 اراکین نے بند کمرا اجلاس کے دوران کشمیر کے مسلے پر بحث کی۔گزشتہ پچاس سال کے بعد کشمیر کے معاملے پر سلامتی کونسل میںیہ پہلا اجلاس تھا۔اجلاس میں چین نے پاکستان کی بھر حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کشمیر کا مسلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا چاہیئے۔وزیر اعظم عمران خان نے 27ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کا معاملہ بھر پور انداز میں اجاگر کیا اور عالمی برادری کو خبردار کیا کہ بھارتی حکومت نے ظلم کی انتہاء کر دی ہے اور جب کرفیو اٹھا یا جائے گا تو کشمیری بھر پور احتجاج کریں گے۔جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران پیشکش کی کہ وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور اور بھارت کے درمیان ثالثی کیلئے تیار ہیں۔ پاکستان نے پانچ اگست کے یکطرفہ بھارتی اقدامات سے او آئی سی کو بھی آگاہ کیا۔30اگست 2019کو او آئی سی کے جنرل سیکرٹریٹ نے جموں و کشمیر کی عالمی تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کا اعادہ کیا اور بھارت کے اس دعوے کومسترد کیا کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کو دو طرفہ معاملہ ہے۔ابو ظہبی میں او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس دو قراردادیں پاس کیں اور انتہائی سخت الفاظ میں بھارتی اقدامات کی مذمت کی۔








