آزاد کشمیر کی مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین رہنماﺅں کی اے پی پی سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 4 اگست (اے پی پی) آزاد کشمیر کی مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین رہنماﺅں نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019ءکشمیریوں کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تبدیلی کا اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے، اس اقدام کی آڑ میں کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، 10 لاکھ مسلح …

اسلام آباد ۔ 4 اگست (اے پی پی) آزاد کشمیر کی مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین رہنماﺅں نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019ءکشمیریوں کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تبدیلی کا اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے، اس اقدام کی آڑ میں کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، 10 لاکھ مسلح افواج کی موجودگی کے باوجود کشمیریوں کو جدوجہد آزادی سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹایا جا سکا۔ منگل کو ”اے پی پی“ بات چیت کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی رکن قانون ساز اسمبلی سحرش قمر نے کہا کہ 5 اگست کے بعد کشمیر میں تاریخ کا بدترین کرفیو ہے،10 لاکھ فوج نے نہتے کشمیریوں کا محاصرہ کر رکھا ہے، ماورائے عدالت قتل عام ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کشمیر میں بھارت کے اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مغائر اقدامات کا نوٹس لے۔ بھارت جان لے طاقت کے بل بوتے پر کشمیریوں کو زیادہ دیر تک غلام نہیں رکھا جا سکتا۔ جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی رہنماءاور قانون ساز اسمبلی کی رکن رفعت عزیز نے کہا کہ 5 اگست2019ءکو ہندوستانی حکومت نے عالمی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی اور انڈین آئین میں ترامیم کرتے ہوئے دفعہ370اور35Aکا خاتمہ کر کے مقبوضہ کشمیر کو انڈین یونین میں ضم کر دیا اس کے ساتھ ہی پوری وادی میں مکمل لاک ڈاو¿ن اور کرفیو نافذ کردیا گیا، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی اور کشمیریوں پر جبر وتشدد کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا پوری وادی اجتماعی جیل خانے میں تبدیل ہو گئی،گھروں کے اندر توڑ پھوڑ،خواتین کی بے۔حرمتی،نوجوانوں پر بدترین تشدد اغوااور غائب کرنے کا طویل سلسلہ شروع ہو گیا،مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے یے ہندوو¿ں کی آباد کاری کے منصوبہ پر تیزی سے عمل درآمد شروع کر دیا گیا جو آج ایک سال گزرنے کے باوجود جاری ہے۔رفعت عزیز نے کہا کہ تمام تر جبر و تشدد اور بہیمانہ ظلم وستم کے باوجود بھارت تحریک آزادی کو دبانے میں بری طرح ناکام رہا ہے،اس دوران اقوام متحدہ اور عالمی برادری کا کردار انتہائی افسوسناک رہا کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کے خلاف ورزیوں کی رپورٹس منظر عام پر آئیں مگر کشمیریوں کی مدد کا کوئی لائحہ عمل کسی سطح پر بھی نہ لایا گیا حکومت پاکستان کشمیر کا وکیل ہونے کے باوجود تقریروں، زبانی وعدوں اور کشمیریوں کو طفل تسلیاں دینے سے بڑھ کر کوئی عملی اور ٹھوس اقدام نہ کر سکی آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کا کردار بھی قراردادوں،تقاریر احتجاجی جلسے جلوسوں اور بین الاقوامی دوروں میں ملاقاتوں،احتجاجی سے آگے نہ بڑھ سکا۔انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک واضح پالیسی اور ٹھوس مو¿قف اپنائے کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کے سامنے کشمیر کی تشویش ناک صورت حال اور بھارتی حکومت کی طرف سے انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی مکمل تصویر پیش کرے اور بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے معاشی اور سیاسی پابندیوں کا مطالبہ کرے۔ آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر اس خطہ کو حقیقی بیس کیمپ بنا کر مقبوضہ وادی کے لوگوں کو ہر طرح کا ریلیف فراہم کرنے اور حق خودارادیت کی منزل کے حصول کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے مو¿قف کو ٹھوس دلائل کے ساتھ پیش کرے۔مسلم کانفرنس کی مرکزی رہنماءنائلہ قلندر گردیزی نے کہا کہ 5 اگست 2019ءکشمیریوں کی تاریخ کا ایک اور سیاہ دن ہے جب کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کیا گیا۔یہ اقدام سراسر اقوام متحدہ کی قرادادوں کہ نفی ہے۔بھارت ہوش کے ناخن لے،وہ طاقت کے بل بوتے پر کشمیریوں کو زیادہ دیر تک غلام نہیں رکھ سکتا۔کشمیریوں کو ان کا تسلیم شدہ استصواب رائے دیا جائے۔پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی رہنما سردار نبیلہ ایوب نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادیں پس پشت ڈال کر کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ عالمی برادری کے منہ پر طمانچہ ہے۔کشمیری بھارت کے تمام ظلم و بربریت کے باوجود اپنے بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے کئے جانے والے لاک ڈاون کو ایک سال پورا ہونے پر تحریک انصاف آزاد کشمیر کی چیئرپرسن تقدیس گیلانی نے ردعمل میں کہا کہ کشمیریوں کو خصوصی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اے کو ختم کر کے مقبوضہ وادی میں کرفیو کے نفاذ ، کشمیریوں کی نقل وحرکت پر پابندی مقبوضہ وادی کشمیرمیں بھارت کی طرف سے مسلط کردہ غیرانسانی لاک ڈاو¿ن اور مواصلاتی بندش کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، متنازعہ بل کے نفاذ کے ساتھ جہاں مقبوضہ کشمیر کا کشمیری اپنے پرچم اور آئین سے محروم ہو چکا ہے وہاں کرونا وبا کی وجہ سے حالاتِ زندگی بدترین ہیں سڑکیں سنسان ہیں، وادی میں دکانیں، کاروبار، تعلیمی مراکز بند ہیں اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں،قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہےاور ایک کروڑ سے زائد افراد دنیا کی سب سے بڑی جیل میں مقید ہیں جبکہ کووڈ19 نے جہاں ساری دنیا کو لاک ڈاون کا حقیقی مطلب سمجھایا ہے وہیں ہہلے سے مشکل زدہ کشمیری بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ نے عالمی برادری کے کردار پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کا منافقانہ رویہ قابلِ مذمت ہے کہ شام میں جو حکمتِ عملی قابلِ عمل ہے وہ کشمیر میں ناجائز قرار دی جاتی ہے،اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ شام میں مالی اور عسکری مدد ان کے لئے جائز ہے جبکہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے مظالم کے خلاف مزاحمت اور اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھانے والے نوجوان برہان وانی کو دہشت گرد قرار دے کر نا صرف شہید کر دیا جاتا ہےبلکہ سوشل میڈیا پر اس کی تصاویر اور متعلقہ مواد کو بین کر دیا جاتا ہے۔تحریک انصاف خواتین ونگ آزاد کشمیر کی سیکرٹری گلزار فاطمہ نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق بھارت کشمیر میں استصواب رائے کروانے کا ذمہ دار ہے۔-عنبریں ترک نے کہا کہ عالمی دنیا کو باور کرانا ہو گا کہ بھارت کی ہٹ دھرنی سے نا صرف جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں ہے بلکہ بھارت کی ڈھٹائی کی وجہ سے جنگ ہونے کی صورت میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے پوری دنیا خطرے کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔