بھارتی سینئر سفارتکار کی دفتر خارجہ طلبی،12 اگست کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے جندروٹ سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کیاگیا،ترجمان دفترخارجہ

اسلام آباد ۔ 13 اگست (اے پی پی) بھارتی سینئر سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کرکے12 اگست کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے جندروٹ سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا۔ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجہ میں خاتون سمیت دو بیگناہ شہری شدید زخمی ہو گئے۔ جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق …

اسلام آباد ۔ 13 اگست (اے پی پی) بھارتی سینئر سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کرکے12 اگست کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے جندروٹ سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا۔ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجہ میں خاتون سمیت دو بیگناہ شہری شدید زخمی ہو گئے۔ جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سینئر بھارتی سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالہ کیا اور کہا کہ قابض بھارتی افواج ایل او سی اور ورکنگ باﺅنڈری کی مسلسل خلاف ورزیاں کرتے ہوئے آرٹلری، بھاری اور خودکار ہتھیاروں کے ذریعے عام شہری آبادیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ بھارتی سفارتکار کا بتایا گیا کہ شہری آبادیوں کو دانستہ نشانہ بنانا انتہائی قابل افسوس، انسانی عظمت ووقار، عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے صریحاً منافی ہے۔ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی ان خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں جس کا نتیجہ سٹرٹیجک غلطی کی صورت نکل سکتا ہے۔ بھارت نے رواں سال کے دوران 1961 مرتبہ بلا اشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں جس میں 16 بیگناہ شہر ی شہید اور 160 زخمی ہوئے ہیں۔ بھارتی سفارتکار کو آگاہ کیا گیا کہ ایل او سی پر کشیدگی میں اضافے سے بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظالم سے عالمی توجہ ہٹا نہیں سکتا۔ بھارت پر زوردیا گیا کہ وہ 2003ءکے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ان واقعات کی تحقیقات کرائے، بھارتی فوج کو جنگ بندی کے احترام کا حکم دے، ایل او سی اور ورکنگ باﺅنڈری پر اس کی روح کے مطابق امن برقرار رکھے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین (یواین ایم او جی آئی پی)کو اپنا کردارادا کرنے کی اجازت دے۔