پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں ماہی پروری کے شعبہ کا حصہ 0.39 فیصد جبکہ زرعی شعبہ کی مجموعی پیداوار میں فشریز کا حصہ 2.10 فیصدہے ، امریکی ادارہ خوارک و زراعت

اسلام آباد ۔ 22 اگست (اے پی پی) پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں ماہی پروری کے شعبہ کا حصہ 0.39 فیصد جبکہ زرعی شعبہ کی مجموعی پیداوار میں فشریز کا حصہ 2.10 فیصد ہے۔ امریکی ادارہ برائے خوراک وزراعت (ایف اے او) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مچھلی کی سالانہ فی کس کھپت 1.9 کلو گرام ہے جو دنیا میں سب سے کم ہے کیونکہ …

اسلام آباد ۔ 22 اگست (اے پی پی) پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں ماہی پروری کے شعبہ کا حصہ 0.39 فیصد جبکہ زرعی شعبہ کی مجموعی پیداوار میں فشریز کا حصہ 2.10 فیصد ہے۔ امریکی ادارہ برائے خوراک وزراعت (ایف اے او) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مچھلی کی سالانہ فی کس کھپت 1.9 کلو گرام ہے جو دنیا میں سب سے کم ہے کیونکہ وطن عزیز میں مچھلی کھانے کے حوالے سے خیال کیا جاتا ہے کہ گرمیوں میں مچھلی نہیں کھانی چاہئے۔اس طرح سال کے تقریباً سات مہینوں میں پاکستان میں مچھلی کی کھپت نہ ہونے کے برابر ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدیوں پرانی اس روایت کے باعث پاکستان میں مچھلی کی فی کس کھپت دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلہ میں سب سے کم ہے۔ اس لئے پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں ماہی پروری کے شعبہ کا حصہ 0.39 فیصد جبکہ زرعی شعبہ کی مجموعی پیداوار میں فشریز کا حصہ 2.10 فیصد تک ہے۔ ایف اے او کی رپورٹ کے مطابق مچھلی جلد خراب ہو جاتی ہے اور اس کو بغیر برف کے صرف 10 منٹ تک 20 ڈگری سینٹے گریڈ درجہ حرارت میں رکھا جا سکتا ہے۔ ایف اے او نے کہا ہے کہ پاکستان میں مچھلی کے کاروبار میں بہتری کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ صارفین کو محفوظ مچھلی بطور خوراک استعمال کے لئے دستیاب ہو سکے۔ ماہی پروری کے شعبہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ سندھ کی ساحلی پٹی میں مچھلیاں پکڑنے کی کشتیوں میں اضافہ اور آلودگی کی وجہ سے 80 تا 90 فیصد آبی حیات کے خاتمہ کا خدشہ ہے۔ جس کے تحفظ کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔