اسلام آباد ۔ 24 اگست (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی جانب سے ریوینو کی وصولی اور مختلف شعبوں میں بڑ ھوتری سے متعلق رپورٹ اور جائزہ پیش کر نے، نئے ٹیکس گزاروں میں اضافہ اور ٹیکس اپیلوں کے ضمن میں موجودہ اپیل سٹرکچر کو از سر نو تشکیل دینے کافیصلہ کیا گیاہے تا …
مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت اجلاس، ایف بی آر کی ریوینو کی وصولی اور مختلف شعبوں میں بڑ ھوتری سے متعلق رپورٹ اور جائزہ پیش کرنے، نئے ٹیکس گزاروں میں اضافہ اور ٹیکس اپیلوں کے ضمن میں موجودہ اپیل سٹرکچر کو از سر نو تشکیل دینے کا فیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 اگست (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی جانب سے ریوینو کی وصولی اور مختلف شعبوں میں بڑ ھوتری سے متعلق رپورٹ اور جائزہ پیش کر نے، نئے ٹیکس گزاروں میں اضافہ اور ٹیکس اپیلوں کے ضمن میں موجودہ اپیل سٹرکچر کو از سر نو تشکیل دینے کافیصلہ کیا گیاہے تا کہ مختلف عدالتوں میں ٹیکس سے متعلقہ کیسز کو حل کرکے ریونیو میں اضافہ کیا جا سکے۔ ترجمان ایف بی آر کے مطابقفیڈر ل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات سے متعلق اہم اجلا س وزارت خزانہ میں منعقد ہوا ۔اجلاس کے دیگر شرکاء میں وزیراعظم کے مشیرعبدالرزاق داﺅد ، وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات عشرت حسین اور سیکرٹری خزانہ نویدکامران بلوچ شامل تھے۔ ایف بی آر کی طرف سے چیئرمین ایف بی آر محمد جاوید غنی، ڈاکٹر محمد اشفاق احمد ممبر آئی آر آپریشنز، عنبرین افتخار ممبر اصلاحات اور عاصم احمد ممبر آئی ٹی نے شرکت کی۔ اس موقع پر ممبر اصلاحاتنے پریزینٹیشن دی۔اجلاس میں میں طے پایا کہ ایف بی آرباقاعدہ ریونیو کی وصولی اور مختلف شعبوں میں بڑ ھوتری سے متعلق رپورٹ اور جائزہ پیش کرے گا۔اجلاس میں ریفنڈز، نئے ٹیکس گزاروں میں اضافہ، پوائینٹ آف سیل سے منسلک ریٹیلرز اور حل شدہ شکایات سے متعلق فیصلہ ہوا کہ ایف بی آر کارکردگی کے اعشاریوں پر باقاعدہ رپورٹ پیش کرے گا۔ ٹیکس اپیلوں سے متعلق یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایف بی آر اپنے موجودہ اپیل سٹرکچر کو از سر نو تشکیل دے گا تا کہ مختلف عدالتوں میں ٹیکس سے متعلقہ کیسز کو حل کرکے ریونیو میں اضافہ کیا جا سکے۔ اجلاس میں انکم ٹیکس ری فنڈز کے خود کار نظام پر بحث کے بعد طے پایا کہ ایف بی آر اپنے انکم ٹیکس ریفنڈز کے نظام کو مکمل طور پر خودکار بنائے گا اور اس سلسلے میں باقاعدہ رپورٹ وزارت خزانہ کو پیش کرے گا۔ انکم ٹیکس گوشواروں کو آسان بنانے کے حوالے سے طے پایا کہ ایف بی آر مختلف شعبوں کو مد نظر رکھ کر انکم ٹیکس گوشواروں کو آسان بنائے گا اور گوشواروں کو آسان بنانے پراٹھائے گئے اقدامات کے متعلق رپورٹ وزارت خزانہ کو پیش کرے گا۔ریجنل ٹیکس آفسز، سی آر ٹی اوز اور لارج ٹیکس پیئر یونٹس کی مانیٹرنگ سے متعلق فیصلہ کیا گیا کہ ایف بی آرباقاعدہ ماہانہ اہداف اور کارکردگی کی رپورٹ وزارت خزانہ کو پیش کرے گا اور مختلف شعبوںمیں رحجان کا جائزہ بھی پیش کرے گا۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ٹیکس گزاروں کی آگاہی کے لئے اصلاحات سے متعلق ایف بی آر کے اقدامات کی تشہیر کی جائے۔ بارڈر پر سمگلنگ کی صورت حال کے بارے میں طے پایا کہ ایف بی آرباقاعدہ ضبط شدہ اشیاءکی تعداد اور مقدار کی تفصیلات رپورٹ کی صورت میں پیش کرے گا۔ میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ انٹیگریٹی مینجمنٹ یونٹ کو مزید فعال بنایا جائے تا کہ شکایات کا فوری ازالہ ممکن ہو۔ اس سلسلے میں رپورٹ وزارت خزانہ کو پیش کی جائے۔ریونیو ٹارگٹ سے متعلق یہ طے پایا کہ ایف بی آر ما ہانہ ریونیو اہداف کو متعین کرنے اور اس کی مانیٹرنگ پر رپورٹ پیش کرے گا۔اجلاس میں اعلی سطحی تکنیکی کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ بھی کیا گیا جو کہ تمام تجاویز کا جائزہ لے گی۔







