لاہور۔5 ستمبر (اے پی پی )وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داﺅد نے حکومت کی جانب سے برآمدات میں اضافہ کےلئے برآمد کنندگان کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لئے بھر پور اقدامات کئے جائےں گے، لاہور چیمبر ایکسپورٹ فیسیلٹی سینٹر برآمدات بڑھانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرے گا اور برآمد کنندگان کو خدمات فراہم کرے گا۔ حکومت مقامی آئی ٹی کی صنعت …
وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داﺅد کا لاہور چیمبر کا دورہ ،ایکسپورٹ فیسیلٹی سینٹر کا افتتاح کیا

مزید خبریں
لاہور۔5 ستمبر (اے پی پی )وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داﺅد نے حکومت کی جانب سے برآمدات میں اضافہ کےلئے برآمد کنندگان کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لئے بھر پور اقدامات کئے جائےں گے، لاہور چیمبر ایکسپورٹ فیسیلٹی سینٹر برآمدات بڑھانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرے گا اور برآمد کنندگان کو خدمات فراہم کرے گا۔ حکومت مقامی آئی ٹی کی صنعت کے مفادات کا تحفظ کرے گی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی معاہدہ(آئی ٹی اے) پر دستخط نہیں کرے گی تاکہ مقامی صنعت متاثر نہ ہو ۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داﺅد نے ےہ باتےں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب کر تے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کوالٹی مینو فیکچرنگ کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے اور مینوفیکچرنگ کے شعبے کو مضبوط کر کے درآمد کو کم سے کم کرنا ہو گا ۔ انہوں نے برآمدات میں اشیاءکے ساتھ ساتھ سروسز کی برآمدات پر بھی زور دیا ۔عبدلرزاق داﺅد نے بتایا کہ حکومت نے 41 فیصد صنعتی خام مال کی درآمد پر امپورٹ ڈیوٹی ختم کر دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزارت تجارت تین سالہ پلان پر کام کر رہی ہے جس میں ٹیرف، خاص طور پر خام مال پرڈیوٹی کی شرح کو بتدریج کم کیا جائے گا ۔ اس منصوبے کو چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کے مشورے سے حتمی شکل دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارت تجارت برآمد کنندگان کے لئے رقوم ریفنڈکے عمل کو بھی آسان بنا رہی ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ٹیرف سیٹینگ کہ ذمہ داری اب منسٹری آف کامرس کرتی ہے جو پہلے (ایف بی آر).کے پاس تھی۔انہوں نے کہا کہ SEZs کے لئے زمین کے حصول کے وقت وہاں زمین کی قیمت بڑھا دی جاتی ہے اس سلسلے کو روکنے کے لئے ہم نے حکومت کو لیز پالیسی اپنانے کا مشورہ دیا ہے تاکہ زمین کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ صنعت کاروں کو برادشت نہ کرنا پڑے ۔ عبدلرزاق داﺅد نے دورہ کے موقع پر لاہور چیمبر میں ایکسپورٹ فیسیلٹی سینٹر کا بھی افتتاح کیا۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عرفان اقبال شیخ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور چیمبر تمام سرکاری محکموں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر یقین رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریٹیل سیکٹر نے ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام کے ساتھ منسلک کرنے کے لئے بنیادی ڈھانچے کو بہتر کرنے کی بہت کوشش کی ہے تاکہ رئیل ٹایم رپورٹنگ کے عمل کو بہتر بنایا جا سکے ۔تاہم، سیلز ٹیکس کی کم شرح کا فائدہ محدود شعبوں کو ہی فراہم کیا جا رہا ہے (یعنی کپڑے، ٹیکسٹائل، چمڑے اور مصنوعی چمڑے سے متعلقہ مصنوعات)۔لاہور چیمبر نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ ریٹیل سیکٹر کے تمام ذیلی شعبے بھی کم شرح سے فائدہ اٹھا سکیں ۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ اس طرح کے ریٹیلرز کے لئے کم ازکم 2 سال تک کوئی آڈٹ نہیں کیا جانا چاہیے جو اس سسٹم کا انتخاب کریں ۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس نے پاکستان کی معیشت کو متاثر کیا ہے جو پہلے ہی قرضوں، افراط زر، مالی خسارے اور جی ڈی پی میں کمی سمیت سخت اقتصادی چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہے۔صنعتی شعبہ گزشتہ چند سالوں سے منفی ترقی کی شرح کا سامنا کررہا ہے۔عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ برآمدات پاکستان کی معیشت کے لئے بہت اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ وہ آمدنی کا سب سے بڑا زریعہ ہیں جس سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں اور ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان برآمدی مصنوعات جن میں ٹیکسٹائل، چمڑے اور چند دیگر اشیاءشامل ہیں میں بہت زیادہ توجہ مرکوز کر رہاہے۔ ہمیں اپنے برآمدات کے سیکٹرز میں اضافہ کرنا چاہیے خاص طور پر حلال فوڈ کی طرح ممکنہ شعبوں پر توجہ مرکوزجن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرنگ کی صنعت, جراحی کے آلات کھیل کی اشیاءاور دواسازی وغیرہ شامل ہیں . انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کہ شعبے کی برآمدی صلاحیت کا بھی ذکر کیااور کہا کہ پاکستان میں 5,000 انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنیاں اور کال سینٹر کام کر رہے ہیں جس میں آئی ٹی کے پیشہ ور ماہرین کی ایک کافی تعداد ہے جبکہ ہر سال تقریبا 20,000 گریجویٹس قومی سطح پر اس سیکٹر میں شامل ہوتے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں حلال فوڈکی برآمدات میں اضافہ کرنے کی ایک بہت بڑی صلاحیت موجود ہے اس مارکیٹ پر غیر مسلم ممالک کا زیادہ حصہ ہے جبکہ ہم اس میں ابھی تک بہت پیچھے ہیں. انہوں نے کہا کہ نئی برآمدی منڈیوں کی تلاش کے لیے اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کی برآمدات کا 55 فیصد صرف 10 ممالک میں جا رہی ہیں۔ ہمیں ممکنہ منڈیوں جیسے افریقہ، روس، جنوبی امریکہ اور وسطی ایشیا وغیرہ سے برآمدی احداف کا بڑھانا چاہئے۔ایک ممکنہ مارکیٹ کے طور پر افریقہ کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے، صدر لاہور چیمبرنے کہا کہ ”ہم نے اپنے ممبران کو سہولت فراہم کرنے اور افریقہ میں برآمدات بڑھانے کے لئے چیمبر میں افریقہ ڈیسک کا قیام کیا ہے ۔ سینئر نائب صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر نے ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارت کے مسائل حل کرنے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ایران پاکستانی چاول کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ حکومت کو چاول کی برآمد کو 5billion ڈالر تک بڑھانے کی منصوبہ بندی پر غور کرنا چاہیے۔ لاہور چیمبر کے نائب صدر میاں زاہد جاوید احمد، سابق صدور میاں مصباح الرحمان، شاہد حسن شیخ، سہیل لاشاری، الماس حیدر، سابق نائب صدر ذیشان خلیل اورایگزیکٹیو کمیٹی کے اراکین بھی اس موقع پر موجود تھے۔








