بھارتی سینئر سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کر کے5 ستمبر کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے رکھ چکری سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ ، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد ۔ 06ستمبر(اے پی پی) بھارتی سینئر سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کر کے5 ستمبر کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل اوسی) کے رکھ چکری سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا، بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 19 سالہ محمد طارق بیگناہ شہری شدید زخمی ہوگیا۔ اتوار کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سینئر …

اسلام آباد ۔ 06ستمبر(اے پی پی) بھارتی سینئر سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کر کے5 ستمبر کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل اوسی) کے رکھ چکری سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا، بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 19 سالہ محمد طارق بیگناہ شہری شدید زخمی ہوگیا۔ اتوار کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سینئر بھارتی سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا اور کہا کہ قابض بھارتی افواج ایل او سی اور ورکنگ باﺅنڈری کی مسلسل خلاف ورزیاں کرتے ہوئے آرٹلری، بھاری اور خودکار ہتھیاروں کے ذریعے عام شہری آبادیوں کو نشانہ بنارہی ہیں۔ بھارتی سفارتکار کا بتایا گیا کہ شہری آبادیوں کو دانستہ نشانہ بنانا انتہائی قابل افسوس، انسانی عظمت ووقار، عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے صریحا منافی ہے۔ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی ان خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں جس کا نتیجہ سٹرٹیجک غلطی کی صورت نکل سکتا ہے۔ بھارت نے رواں سال کے دوران 2158 مرتبہ بلا اشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں جس میں 17بے گناہ شہر ی شہید اور 168زخمی ہوئے ہیں۔ بھارتی سفارتکار کو آگاہ کیا گیا کہ ایل او سی پر کشیدگی میں اضافے سے بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظالم سے عالمی توجہ ہٹا نہیں سکتا۔ بھارت پر زوردیا گیا کہ وہ دوہزار تین کے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ان واقعات کی تحقیقات کرائے، بھارتی فوج کو جنگ بندی کے احترام کا حکم دے، ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر اس کی روح کے مطابق امن برقرار رکھے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین (یواین ایم او جی آئی پی)کو اپنا کردارادا کرنے کی اجازت دے۔