وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمر کی وفاقی وزراءعلی زیدی اور امین الحق کے ہمراہ پریس کانفرنس

کراچی۔6 ستمبر(اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا ہے کہ ہفتہ کو وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کراچی کے لئے اعلان کردہ پیکچ کا 62 فیصد فنڈ وفاقی حکومت جبکہ 38 فیصدفنڈ سندھ حکومت خرچ کرے گی ، کراچی کی صورتحال کی بہتری کے لئے آپ ایک قدم آگے بڑھائیں گے ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے لیکن یہ نہیں …

کراچی۔6 ستمبر(اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا ہے کہ ہفتہ کو وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کراچی کے لئے اعلان کردہ پیکچ کا 62 فیصد فنڈ وفاقی حکومت جبکہ 38 فیصدفنڈ سندھ حکومت خرچ کرے گی ، کراچی کی صورتحال کی بہتری کے لئے آپ ایک قدم آگے بڑھائیں گے ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے لیکن یہ نہیں ہوگا کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہو اور حقائق مسخ کرکے بتائے جائیں اور ہم خاموش رہیں ،میں اس بات کو دہرارہاہوں کہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ مثبت سوچ کے ساتھ چل رہے ہیں اور یہ امید کرتا ہوں کہ ان کی لیڈرشپ ان کواس مثبت سوچ کے ساتھ آگے چلنے دے گی ،پیکج کے اعلان سے قبل اس بات پر بھی اتفاق ہوا تھا کہ ہم عوام کو صرف منصوبوں سے آگاہ کریں گے ، پیکج میں وفاق اور صوبہ کتنا فنڈ خرچ کرے گی اس کا ذکر نہیں کریں گے لیکن پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹوزرداری کے اس ویڈیو کلپ کے بعد کہ 11 سو ارب روپے کے پیکج میں 800 ارب روپے صوبہ خرچ کرے گا اور وفاق صرف 300 ارب روپے خرچ کرے گا یہ ضروری ہوگیا تھا کہ فنڈز خرچ کرنے کے صورتحال سے عوام کو آگاہ کیا جائے، کراچی کے عوام کی ضروریات پوری نہیں ہوں گی تو پاکستان ویسے ترقی نہیں کرسکتا جیسے ہم سب کی خواہش ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو گورنرہاوس میں وفاقی وزراءعلی زیدی اور امین الحق کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ گزشتہ روز جیسے ہی پریس کانفرنس ختم ہوئی تو میرے پاس پیغامات آنا شروع ہوگئے کہ پیپلزپارٹی کی سوشل میڈیا مہم چلارہی ہے کہ کراچی پیکج کے لئے صوبائی حکومت 800 ارب روپے خرچ کرے گی لیکن میں اس کو نظر انداز کرتا رہا لیکن پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹوزرداری کے ویڈیو کلپ آنے کے بعدمیں نے ضروری سمجھا کہ حقاق سے آگاہ کیا جائے ۔ کراچی پیکج کے حوالے سے مزید گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر یہ کوشش کامیاب ہوگی تو اس وجہ سے نہیں ہوگی کہ ہم نے نئے منصوبہ شروع کئے ہیں یا ہمارے پاس فنڈنگ کے لئے نئے ذرائع آگئے ہیں ، یہ کامیاب صرف اور صرف اس صورت میں ہوگی کہ اگر پاکستان کے تمام ریاستی ادارے ، پاکستان کی حکومتیں چاہے وفاقی حکومت ہو یا صوبائی حکومت ہو ان کو اس بات کا ادارک ہو کہ یہ شہر جو ملک کا سب سے بڑا شہر ہے ، سب سے زیادہ ریونیودینے والا شہر ہے ، اگر یہ شہر فعال نہیں ہوگا اس شہر کے عوام کی ضروریات پوری نہیں ہوںگی تو پاکستان ویسے ترقی نہیں کرسکتا جیسے ہم سب کی خواہش ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پیکج کے اعلان سے قبل صوبائی حکومت کے ساتھ اس پیکج کو ختمی شکل دینے کے لئے ہونے والی ملاقات میں سوائے ایک دو منصوبوں کے علاوہ باقی چیزوں پر اتفا ق ہوگیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو میں نے کہا کہ پیکج میں وفاق کتنا فنڈ خرچ کرے گی اور صوبائی حکومت کتنا فنڈ خرچ کرے گی پیکج کے اعلان میں اس بات کا ذکر ہی نہیں کرتے کیونکہ میں چاہتا تھا کہ جس جذبے کے ساتھ ہم کراچی کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں وہ جذبہ قائم رہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے مسائل حل کرنے کے لئے وفاق اور صوبے کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے ، اسلئے ہم عوام کے سامنے وہ مننصوبے رکھ دیتے ہیں کہ یہ منصوبہ وفاق اور صوبہ ملکر کررہے ہیں ۔ اسد عمرنے کہا کہ کراچی کے لئے جو خرچ کیا جارہا ہے یہ کراچی کا حق ہے اور ہم سب کا فرض ہے ، اس میں کوئی سیاست نہیں اور ہم مشترکہ طور پر کام کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی شہر کے وہ حالات نہیں ہیں جو ہونے چاہئے تھے ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نالوں کی صفائی اور تجاوزات کے خاتمہ کا کام 14 سے 15 ماہ میں مکمل ہوجائے گا ، عوام کو متبادل جگہ کی فراہمی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے ، گرین لائین کا منصوبہ جون 2021 میں مکمل ہوجائے گا ، کے فور کا منصوبہ 2022 کے اختتام تک مکمل ہوجائے گا اور کراچی سرکلر ریلوے کا منصوبہ اگست 2023 میں مکمل ہوجائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ملک میں سیلاب کے بعد بننے والی صورتحال پر اجلاس بلانے کی احکامات دےے ہیں ۔ اس موقع پر وفاقی وزراءعلی زیدی اور امین الحق نے بھی کراچی کے لئے تاریخی پیکج دینے پر وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا ۔