وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین کا اے پی پی کو انٹرویو

اسلام آباد ۔ 7 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ ای وہیکل پروجیکٹ کے تحت خواتین کو محفوظ اور آرام دہ سفری سہولت کی فراہمی کیلئے بجلی سے چلنے والی خصوصی ڈیزائن کردہ تھری ویلر متعارف کی جائیں گی۔سویڈش کمپنی نے پاکستان میں اپنے یونٹس قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے،اس سلسلے میں کمپنی کیساتھ بات چیت جاری ہیں۔وفاقی …

اسلام آباد ۔ 7 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ ای وہیکل پروجیکٹ کے تحت خواتین کو محفوظ اور آرام دہ سفری سہولت کی فراہمی کیلئے بجلی سے چلنے والی خصوصی ڈیزائن کردہ تھری ویلر متعارف کی جائیں گی۔سویڈش کمپنی نے پاکستان میں اپنے یونٹس قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے،اس سلسلے میں کمپنی کیساتھ بات چیت جاری ہیں۔وفاقی وزیر نے پیر کو اے پی پی کو انٹرویو میں کہا کہ یہ تھری ویلرز دلکش سرخ اور پیلے رنگوں میں دستیاب ہونگے جو خواتین کے پسندیدہ رنگ ہیں۔ان تھری ویلرز میں ائر کنڈیشنر،وائی فائی اور جی پی ایس کی سہولتیں بھی ہونگی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں ملازمت پیشہ یا تعلمی اداروں جانے والے طالبات اور خواتین کو اکثر سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان الیکٹرک تھری ویلرز کی دستیابی سے خواتین کے سفر سے متعلق مسائل بہت حد تک حل ہو جائینگی۔ چوہدری فواد نے کہا کہ اس کے علاوہ پاکستان اور چین کے درمیان سٹریٹجک الائنس کے تحت پاکستان میں الیکٹرک وہیکل ویلیو چین بھی قائم کیا جا ئیگا۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں ابتدائی طور پر 50 ملین ڈالر کی سرمایہ ہو گی جبکہ دوسرے مرحلے میں ملکی سطح پر الیکٹرک بسوں کی تیاری کا آغاز ہو گا۔انہوں نے کہا کہ گلوبل آلودگی میں 25فیصد حصہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کا ہے اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کی بجلی پر منتقلی سے ماحولیاتی آلودگی میں بڑی حد تک کمی آئیگی۔زرعی ترقی کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ سو فیصد برآمدی ایگریکلچر متعارف کرانے کیلئے 500ٹیکنالوجی۔بیسڈ فارمز قائم کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ 2،پانچ اور 12.5ایکڑ فارمز ڈرون،واٹر سنسرز،کیڑے مار ادویات،پیکجنگ فسیلٹی،بیج سمیت ٹیکنالوجی پیکجز دیئے جائیں گے۔اس اقدام کے دوسرے مرحلے میں کسانوں کیلئے کارپوریٹ لائیو سٹاک فارمز کو ترقی دی جائیگی۔پاکستان حلال اتھارٹی بھی قائم کر دی گئی ہے جو اسلامی طریقے سے ذبح شدہ معیاری گوشت کی فراہمی کو یقینی بنائی گی۔چوہدری فواد حسین نے سائنس ٹیکنالوجی انجینئرنگ میتھمٹکس(ایس ٹی ای ایم)منصوبے کا زکر کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں 440سکول ایس ٹی ای ایم سکولوں میں تبدیل کردینگے۔تقریاب ایک لاکھ طلبا کو گریڈ گیارہ سے گریڈ بارہ تک سالانہ ایس ٹی ای ایم ایجوکیشن دی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ عظیم سائنسداں ڈاکٹر عبداسلام نے 1960 میں پاکستان کے خلائی پروگرام کا آغاز کیا تھا1963میں جب پاکستان نے پہلا راکٹ ’رہبر‘ خلا میں بھیجا تو سویت یونین کے بعد پاکستان یہ کامیابی حاصل کرنے والا ایشاءکا دوسرا ملک تھا جبکہ بھارت سمیت کئی ممالک اس وقت خلائی دوڑ میں شامل بھی نہیں ہوئے تھے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ1971 سقوط ڈھاکہ اور پھر افغانستان کی صورتحال کے باعث مشترکہ سول اور ملٹری ریسرچ کا فقدان ہماری سٹریٹجک غلطی تھی۔یہی وجہ ہے کہ آج ہم الخالد ٹینک تیار کر سکتے ہیں لیکن اپنی کاریں نہیں۔پاکستان ان گنے چنے ممالک میں شامل ہے جو چین کیساتھ پارٹنرشپ کے تحت جے ایف تھنڈر جنگی طیارے تیار کر رہا ہے ،جس کے 70فیصد الیکٹرونکس مقامی سطح پر تیار ہو رہے ہیں لیکن اپنا موبائل یا کار نہیں بنا سکتے۔