وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی، اصلاحات وخصوصی اقدامات اسدعمر کا وضاحتی بیان

اسلام آباد ۔ 7 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی، اصلاحات وخصوصی اقدامات اسدعمر نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کراچی کی ترقی کے لئے صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے پر غور کر رہی ہے، اصل مقصد سیاسی پوائینٹ سکورنگ نہیں بلکہ کراچی کے شہریوں کو سہولیات فراہم کرنا ہے۔ پیر کو اپنے وضاحتی بیان میں انہوں نے کہا کہ کراچی کے حوالے …

اسلام آباد ۔ 7 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی، اصلاحات وخصوصی اقدامات اسدعمر نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کراچی کی ترقی کے لئے صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے پر غور کر رہی ہے، اصل مقصد سیاسی پوائینٹ سکورنگ نہیں بلکہ کراچی کے شہریوں کو سہولیات فراہم کرنا ہے۔ پیر کو اپنے وضاحتی بیان میں انہوں نے کہا کہ کراچی کے حوالے سے پیدا ہوئی غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے وزیراعظم کے اعلان کردہ کراچی تبدیلی منصوبے کے تحت مندرجہ ذیل منصوبوں کا وعدہ کیا ہے ، کراچی گریٹر واٹر سپلائی منصوبے کے لیے 46 ارب روپے کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) منصوبے کے لئے 300 ارب روپے ،گرین لائن بی آر ٹی منصوبے کے لیے 5 ارب روپے، ریلوے فریٹ کوریڈور منصوبے کے لیے 131 ارب روپے اور دو دریاﺅں/نالوں کی بحالی جیسے منصوبوں کے لیے 254 ارب روپے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کی کل لاگت کا تخمینہ 736 ارب روپے ہے ،حکومت سپریم کورٹ آف پاکستان سے درخواست کرے گی کہ وہ بحریہ ٹاو¿ن رزیلینٹ فنڈ کے ایک حصے ( 125 ارب ) کے استعمال کی اجازت دے اور وفاقی حکومت کے بقیہ 611 ارب روپے کا نتظام کرے گی۔ اسد عمر نے کہاکہ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کو حتمی شکل دینے کے لئے منعقدہ اجلاسوں کے دوران صوبائی حکومت نے کے سی آر منصوبے کی ذمہ داری لینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاہم آئینی طور پرریلوے وفاق کی ذمہ داری ہے اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی وفاقی حکومت کو منصوبوں پر عملدرآمد کی ہدایت کی ہے۔ اسد عمر نے کہاکہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس منصوبے کو شروع کرے ،کے سی آر منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 300 ارب روپے ہے جس کی زمہ داری وفاقی حکومت پر ہو گی۔