اسلام آباد ۔ 7 ستمبر (اے پی پی) سپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، پارلیمان کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے معاملہ کو عالمی سطح پر اٹھایا جائے گا، او آئی سی کو مغربی دنیا میں اسلامو فوبیا کے تدارک کے لئے کردار ادا کرنا ہو گا، پاکستان میں اقلیتوں کو …
سپیکرقومی اسمبلی اسد قیصرکی وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری کے ساتھ ملاقات کے دوران گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 7 ستمبر (اے پی پی) سپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، پارلیمان کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے معاملہ کو عالمی سطح پر اٹھایا جائے گا، او آئی سی کو مغربی دنیا میں اسلامو فوبیا کے تدارک کے لئے کردار ادا کرنا ہو گا، پاکستان میں اقلیتوں کو اپنی مذہبی عبادات کی ادائیگی اور اپنے عقائد کے مطابق زندگی بسر کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری کے ساتھ ہونی والی ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سپیکر اسد قیصر نے فرانسیسی جریدے میں دوبارہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی جریدے میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت ایک سوچی سمجھی سازش ہے تاکہ مذہب کے درمیان مذہبی منافرت پھیلائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ایک پرامن مذہب ہے اس مذہب کے ماننے والوں مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ اس قسم کی سوچ انتہائی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم اْمہ اجتماعی سطح پر اس معاملہ کو اقوام متحدہ اور فرانسیسی حکومت کے سامنے اٹھائے۔ انہوں نے بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے وزارت مذہبی امور کو بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے اپنے کردار کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ محرم الحرام میں امن و امان کے قیام کے سلسلے میں وزارت مذہبی امور کا کردار قابل ستائش ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران مختلف مکاتب فکر کے علماء اور مشائخ نے اس وبا سے بچاو کیلئے عوام میں شعور و آگاہی اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ عوامی امنگوں کی ترجمان ہے اور عوامی فلاح کیلئے قانون سازی اس کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش خارجی چیلنجر کے سدباب کیلئے ملکی سیاسی قیادت کا متحد ہونا صروری ہے۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کہا کہ وزارتِ مذہبی امور بین المذہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ گستاخانہ مواد کی اشاعت مذاہبِ کے درمیان مذہبی منافرت پھلانے کا سباب بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام امن اور محبت کا پیغام ہے اور تمام مذاہب کا احترام کرنے کا درس دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کے حقوق کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کے بھی کوئی حدود قیود ہوئے ہیں آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو بھی کسی قوم یا فرد کے جذبات اور احساسات سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے پوری دنیا میں بسنے والوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ پیر نور الحق قادری نے گستاخانہ خاکوں کے معاملے کو پارلیمان کے ذریعے اقوام متحدہ اور او آئی سی کی سطح پر اٹھانے میں سپیکر قومی اسمبلی کی گہری دلچسپی کو سراہا۔








