موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں میں بہتر کوآرڈینیشن کی ضرورت ہے، وزیراعظم عمران خان کا نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی برائے فلڈز کے اجلاس میں اظہار

اسلام آباد ۔ 7 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں میں بہتر کوآرڈینیشن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے تاکہ ریلیف سرگرمیوں کو مزید بہتر اور نقصانات کا ازالہ کرنے کے حوالے سے مشترکہ طور پر حکمت عملی تشکیل …

اسلام آباد ۔ 7 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں میں بہتر کوآرڈینیشن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے تاکہ ریلیف سرگرمیوں کو مزید بہتر اور نقصانات کا ازالہ کرنے کے حوالے سے مشترکہ طور پر حکمت عملی تشکیل دی جا سکے۔ وہ پیر کو یہاں نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی برائے فلڈز کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں وزیرِ اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، وزیر مواصلات مراد سعید، وزیر برائے آبی وسائل محمد فیصل واوڈا، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل، چیئرمین این ایچ اے، چیئرمین فلڈ کمیشن، ڈی جی میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ و دیگر سینئر افسران شریک تھے۔ صوبائی چیف سیکرٹریز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ چیئرمین این ڈی ایم نے وزیراعظم کو ملک میں مون سون، مختلف حصوں میں حالیہ بارشوں کی صورتحال، جانی و مالی نقصانات اور این ڈی ایم اے کی جانب سے ریلیف سرگرمیوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ محکمہ موسمیات اور فلڈ کمیشن کے حکام نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ حالیہ مون سون کے نتیجہ میں اس سال ملک کے اکثر حصوں اور خصوصاً سندھ اور بلوچستان میں ماضی کی نسبت زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔ دریاؤں کی صورتحال کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس وقت تمام دریاؤں میں درمیانے درجے کا بہاؤ ہے۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ حالیہ بارشوں کے نتیجے میں ملک کے تمام ڈیم پانی سے مکمل طور پر بھر چکے ہیں جس کی بدولت پانی کی دستیابی کی صورتحال تسلی بخش رہے گی۔ چیف سیکرٹری صاحبان نے صوبہ سندھ، پنجاب، خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں حالیہ بارشوں کی وجہ سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات، ریلیف سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ متعلقہ حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ قوی امید ہے کہ مون سون کا دورانیہ وسط ستمبر تک رہے گا۔مزید سیلابی صورتحال کے پیدا ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ پاک آرمی کی جانب سے ریلیف سرگرمیوں کے بارے میں بھی اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں میں بہتر کوارڈینیشن کی ضرورت ہے۔ انہوں نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر صوبہ سندھ اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں نقصانات کا جائزہ لیا جائے تاکہ ریلیف سرگرمیوں کو مزید بہتر اور نقصانات کا ازالہ کرنے کے حوالے سے وفاق اور صوبائی حکومتیں مشترکہ طور پر حکمت عملی تشکیل دے سکیں۔