موجودہ انتظامیہ کے دور میں نیب نے بدعنوان عناصر سے لوٹے گئے 363 ارب روپے برآمد کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں جو کہ نمایاں کامیابی ہے،چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال

اسلام آباد ۔ 7 ستمبر (اے پی پی) چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہے، نیب اپنے انویسٹی گیشن افسران کی تربیت کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ افسران کی تربیت ایک مؤثر ذریعہ ہے جس کے ذریعے جدید خطوط پر عملی اور نتیجہ خیز کوششوں میں اضافہ کرکے انسانی صلاحیتوں کواجاگر کیا جا سکتا ہے۔ نیب اعلامیہ کے مطابق چیئرمین نیب …

اسلام آباد ۔ 7 ستمبر (اے پی پی) چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہے، نیب اپنے انویسٹی گیشن افسران کی تربیت کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ افسران کی تربیت ایک مؤثر ذریعہ ہے جس کے ذریعے جدید خطوط پر عملی اور نتیجہ خیز کوششوں میں اضافہ کرکے انسانی صلاحیتوں کواجاگر کیا جا سکتا ہے۔ نیب اعلامیہ کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب اینٹی کرپشن کا ایک اعلیٰ ادارہ ہے جس کو ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کی ذمہ داری دی گئی ہے، اس ذمہ داری کو نبھانے کیلئے اعلیٰ تربیت یافتہ اور پرعزم افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب ہیومن ریسورس مینجمنٹ کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ نیب افسران/عہدیداروںکی استعداد کار میں ضافہ کیلئے سالانہ ٹریننگ پلان2020ء کی منظوری دی گئی ہے تاکہ تربیتی منصوبے کے کامیاب نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی سطح پر ٹریننگ سیلز قائم کئے گئے ہیں جن کی بنیادی ذمہ داری ٹی اینڈ آر ڈویژن نیب ہیڈکوارٹرز کے تعاون سے متعلقہ علاقائی بیوروز میں مجوزہ سرگرمیوں کو مرتب کرنا ہے۔ ٹی اینڈ آر ڈویژن نیب نے نیب ہیڈکوارٹرز میں ٹریننگ آف ٹرینرز پروگرام منعقد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کے دور میں نیب نے بدعنوان عناصر سے لوٹے گئے 363 ارب روپے برآمد کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں جو کہ نمایاں کامیابی ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کو 2019ء کے اس عرصہ کے مقابلہ میں 2020ء میں شکایات، انکوائریوں اور انویسٹی گیشنز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ 2 سال کی کارکردگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیب کے تمام افسران نے سخت محنت کرکے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ بدعنوانی کے خاتمہ کو قومی فرض سمجھ کر ادا کر رہے ہیں، شکایات کی تعداد میں اضافہ سے بھی نیب پر عوام کے اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب واحد انویسٹی گیشن ادارہ ہے جس نے وائٹ کالر مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کیلئے شکایت کی جانچ پڑتال، انکوائری، انویسٹی گیشن اور متعلقہ احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے کیلئے 10 ماہ کا عرصہ مقرر کیا ہے۔ نیب نے سینئر سپروائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے۔ یہ تحقیقاتی ٹیم ایک ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انویسٹی گیشن آفیسر اور سینئر لیگل کونسل پر مشتمل ہے۔ اس سے نہ صرف نیب کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے بلکہ کوئی بھی فرد واحد نیب کی تحقیقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے نتائج حوصلہ افزاء ہیں۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ معتبر عالمی اور قومی اداروں جیسے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان، عالمی اقتصادی فورم، پلڈاٹ اور مشال پاکستان نے ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ اور بدعنوان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے نیب کی کوششوں کو سراہا ہے، گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے مطابق 59 فیصد عوام نیب پر اعتماد کرتے ہیں۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب راولپنڈی میں جدید فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی گئی ہے، اس لیبارٹری میں ڈیجیٹل فرانزک، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیہ کی سہولت موجود ہے تاکہ انویسٹی گیشن افسران اور پراسیکیوٹر قانون کے مطابق مقررہ وقت میں مقدمات کی تحقیقات کے تناظر میں فرانزک لیبارٹری کی سہولیات سے استفادہ کر سکیں۔