اسلام آباد ۔ 30 ستمبر (اے پی پی) الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت بدھ کو منعقد ہوا جس میں ممبران الیکشن کمیشن ، سیکرٹری الیکشن کمیشن، ڈی جی (لائ) اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق سیکرٹری الیکشن کمیشن اور ڈی جی (لائ) نے ملک میں بلدیاتی اور ضمنی انتخابات کے انعقاد سے متعلق اب …
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اجلاس،ممبران الیکشن کمیشن ، سیکرٹری ، ڈی جی (لائ) اور دیگر سینئر افسران کی شرکت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 30 ستمبر (اے پی پی) الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت بدھ کو منعقد ہوا جس میں ممبران الیکشن کمیشن ، سیکرٹری الیکشن کمیشن، ڈی جی (لائ) اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق سیکرٹری الیکشن کمیشن اور ڈی جی (لائ) نے ملک میں بلدیاتی اور ضمنی انتخابات کے انعقاد سے متعلق اب تک کی پیشرفت، قانونی پیچیدگیوں اور دیگر حائل رکاوٹوں سے متعلق آگاہ کیا۔ کمیشن کو بریف کیا گیا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات کے انعقاد کے سلسلہ میں وزارت صحت اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کو تحریر کیا گیا کہ وہ کورنا وبا کی موجودہ صورتحال، ضمنی انتخابات کے انعقاد اور ایس او پی پر عملدرآمد سے متعلق مکمل رپورٹ الیکشن کمیشن کو مہیا کریں تاکہ رپورٹ کی روشنی میں الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ کر سکے اس رپورٹ کا الیکشن کمیشن کو تاحال انتظار ہے۔ الیکشن کمیشن کو بتایا گیا کہ سندھ میں الیکشن کمیشن حلقہ بندی کے لئے تیار تھا، اس سلسلے میں حلقہ بندی آفیسروں کی تعیناتی اور حلقہ بندیوں کے شیڈول کا نوٹیفکیشن بھی کر دیا گیا تھا جو بعد ازاں سندھ گورنمنٹ اور پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں کی درخواست پر کہ الیکشن کمیشن مردم شماری 2017ءکے غیر حتمی اعدادوشمار پر حلقہ بندی نہیں کرا سکتا۔ الیکشن کمیشن نے سندھ گورنمنٹ کی درخواست کے پیش نظر سندھ میں حلقہ بندی کے شیڈول کو مو¿خر کیا۔ الیکشن کمیشن نے مردم شماری 2017ءکے اعدادوشمار کی سرکاری اشاعت سے متعلق بھی متعدد اقدامات اٹھائے ہیں جس میں وزیراعظم پاکستان /فیڈرل گورنمنٹ ، وزارت پارلیمانی امور اور وزارت قانون و انصاف کو متعدد بار تحریر کیا کہ مردم شماری 2017ءکے اعدادوشمار کی فوری سرکاری اشاعت کی جائے اور وزارت قانون و انصاف الیکشن کمیشن کی ضروری رہنمائی کرے۔ اس سلسلے میں چیئرمین سینیٹ ، سپیکر نیشنل اسمبلی کی توجہ بھی مبذول کروائی گئی کہ مردم شماری کے اعدادوشمار کی سرکاری اشاعت کو یقینی بنوایا جائے لیکن ابھی تک مذکورہ بالاحکام کی طرف سے مردم شماری 2017ءکے اعدادوشمار کی سرکاری اشاعت سے متعلق کوئی خاطر خواہ پیشرفت وجواب موصول نہیں ہوا۔ الیکشن کمیشن نے پنجاب کی ابتدائی حلقہ بندیوں کی اشاعت شیڈول کے مطابق 18ستمبر 2020ءکو کرنا تھی۔ یہ حلقہ بندی بھی حکومت پنجاب کی درخواست پر موخر کی گئی پنجاب گورنمنٹ نے الیکشن کمیشن کو درخواست کی تھی کہ انہوں نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت ویلج کونسلوں اور نیبر ہوڈ کونسلوں کے نام صوبائی گورنمنٹ (کیبنٹ) سے منظور کرانے ہیں جس کے لئے ان کو وقت درکار ہے۔ اور اگر الیکشن کمیشن ابتدائی حلقہ بندیوں کی اشاعت کرتاہے تو لوگ حلقہ بندیوں کے معائنے اور اعتراضات کے لئے حاکم حلقہ بندی کے دفاتر میں جائیں گے اور کرونا ایس او پیز پر عملددرآمد ممکن نہں ہوگا اور یہ مسئلہ نیشنل کمانڈاینڈ آپریشن سنٹر کی سطح پر بھی اٹھایا جائے تاکہ وبا کے پھیلاو اور الیکشن کے انعقاد سے متعلق مناسب فیصلہ کیا جا سکے۔ گورنمنٹ آف پنجاب کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے فی الحال ابتدائی حلقہ بندیوں کی اشاعت مو¿خر کر دی ہے۔ البتہ پنجاب ویلج اور نیبر ہوڈ کونسلوں کی حلقہ بندی مردم شماری 2017ءکے غیر حتمی اعدادوشمار پر کی گئی تھی کیونکہ پنجاب ویلج پنچائیت اینڈ نیبر ہوڈ کونسلز ایکٹ 2019ءاس کی اجازت دیتا ہے۔ صوبہ خیبرپختونخواہ کی ویلج /نیبر ہوڈ کونسلوں کی ابتدائی حلقہ بندی کی اشاعت مورخہ 19 ستمبر 2020ءکوکردی گئی ہے البتہ صوبہ پختونخوا کے 7 ڈویژنل ہیڈ کواٹر مردان، بنوں، ایبٹ آباد، ڈی آئی خان ، کوہاٹ اور سوات کے تحصیل/کونسلوں کی ویلج اور نیبر ہوڈ کونسلوں کی تعداد کا نوٹیفکیشن نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے مذکورہ بالا 7 ڈویژنل ہیڈ کواٹر کے اضلاع کی حلقہ بندی کا کام حکومت خیبر پختونخواہ کی سیٹوں کی تفصیل نہ دینے کی وجہ سے مو¿خر ہے۔ الیکشن کمیشن صوبے میں انتخابات کے لئے تیار ہے اس صوبہ میں بھی ویلج اور نیبر ہوڈ کونسلوں کی حلقہ بندی مردم شماری 2017ءکے غیر حتمی اعدادوشمار پر کی گئی ہے کیونکہ خیبرپختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ءاس کی اجازت دیتا ہے۔ صوبہ بلوچستان میں بھی الیکشن کمیشن نے 17 جنوری 2019ءکو حلقہ بندی افسروں اور صوبہ میں حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کیا صوبہ میں حلقہ بندی 10 جنوری 2019ءسے شروع ہونی تھی اور 30 مارچ 2019ءکو حلقہ بندی کا کام پایہ تکمیل کو پہنچنا تھا الیکشن کمیشن قانون کے مطابق مقررہ معیاد میں الیکشن کروانے کے لئے تیار تھا اسی اثناءمیں صوبائی گورنمنٹ نے درخواست اکی کہ صوبائی حکومت لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ریفارمز لانا چاہتی ہے لہٰذا صوبہ کو اس مقصد کے لئے ٹائم دیا جائے ۔ الیکشن کمیشن نے یہ درخواست مسترد کر دی تھی۔ اس کے بعد بلوچستان ہائیکورٹ میں ایک رٹ دائر کی گئی جس میں آبادی کے اعدادوشمار کو چیلنج کیا گیا تھا جس پر عدالت عالیہ نے الیکشن کمیشن کی طرف سے حلقہ بندی کے شیڈول کو معطل کردیا اور کیس عدالت عالیہ بلوچستان میں زیر سماعت ہے۔ الیکشن کمیشن نے میٹنگ کے بعد حکم دیا کہ وزارت پارلیمانی امور، وزارت قانون انصاف اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے متعلقہ حکام کو دوبارہ تحریر کیا جائے کہ وہ الیکشن کمیشن کی تحریر کردہ چٹھیوں پر مثبت اور فوری عملدرآمد یقینی بنائیں تاکہ الیکشن کمیشن قومی و صوبائی اسمبلیوں کی خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات اور صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے۔ الیکشن کمیشن نے اس بات پر بھی غور کیا کہ ضرورت پڑنے پر سیکرٹری پارلیمانی امور اور سیکرٹری قانون و انصاف کو الیکشن کمیشن کی معاونت کے لئے مدعو کیا جائے۔







