آنے والے مہینے بہت سخت ہوں گے، ہمیں صبر، تحمل اور سمجھداری سے کام لینا ہوگا، جرمن چانسلر

برلن۔1اکتوبر (اے پی پی): جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ سردیوں میں ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاو¿ میں اضافہ ہوگا اس لیے ہمیں صبر، تحمل اور سمجھداری سے کام لینا ہوگا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں، بنڈس ٹاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب اپنی معمول کی زندگی چاہتے ہیں لیکن اس …

برلن۔1اکتوبر (اے پی پی): جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ سردیوں میں ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاو¿ میں اضافہ ہوگا اس لیے ہمیں صبر، تحمل اور سمجھداری سے کام لینا ہوگا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں، بنڈس ٹاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب اپنی معمول کی زندگی چاہتے ہیں لیکن اس وقت وہ سب کچھ داﺅپر لگا ہوا ہے جو ہم نے گزشتہ مہینوں میں حاصل کیا ہے، ہم ایسا نہیں ہونے دے سکتے۔ میرکل نے کہا کہ وہ ہر حال میں ملازمتیں بچانا چاہتی ہیں، بچوں کو سکول میں دیکھنا چاہتی ہوں، ہم معیشت کو دوبارہ اپنی پٹری پر لانا چاہتے ہیں، ہم یہی چاہتے ہیں کہ ملک میں کورونا کی دوسری لہر نہ آسکے اور ہم ایسا کرنے کی حالت میں ہیں۔ جرمن چانسلر نے کہا کہ اس وقت ڈاکٹر اور ہسپتال کورونا وائرس کی وبا کا مقابلہ کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہیں اس لیے انہیں یقین ہے کہ آنے والے خطرے کو ٹالا جاسکتا ہے۔ انہوں نے جرمن عوام سے ساتھ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مدد کے بغیر حکومت کورونا کی دوسری لہر کو روکنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکے گی اور یہ کہ عوام کو اب بھی سماجی فاصلے جیسے ضابطوں پر عمل کریں کیونکہ ہم نے اس وبا کے دوران بہت کچھ سیکھا ہے اور ہم ہر دن کچھ نیا سیکھ رہے ہیں لیکن اب ہمیں دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے لوگوں سے مستقبل میں بھی محتاط رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بہت طویل راستہ ہے کیونکہ وبا ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور ہمیں سردیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا ہے اس لیے آنے والے وقت میں ضابطوں پر عمل کرتے رہیں۔ جرمن چانسلر نے کورونا وائرس کی اس وبا کو تاریخی چیلنج قرا ردیتے ہوئے کہا کہ فی الحال ہمیں صبر، تحمل اور سمجھداری سے کام لینا ہوگا اور لوگوں کی جانیں بچانی ہوں گی۔ جرمنی میں اس وقت یومیہ تقریباً 2 ہزار نئے کیس سامنے آرہے ہیں۔