واشنگٹن۔12اکتوبر (اے پی پی): امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں برس کرسمس تک افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کے بیان پر پینٹاگون نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق پینٹاگون نے صدر ٹرمپ کے بیان پر اب تک کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا جب کہ وزیرِ دفاع مارک ایسپر سےگزشتہ جمعرات کو پینٹاگون میں ایک تقریب کے دوران افغانستان سے فوجی انخلا سے …
صدر ٹرمپ کے افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کے بیان پر پینٹاگون کی خاموشی

مزید خبریں
واشنگٹن۔12اکتوبر (اے پی پی): امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں برس کرسمس تک افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کے بیان پر پینٹاگون نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق پینٹاگون نے صدر ٹرمپ کے بیان پر اب تک کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا جب کہ وزیرِ دفاع مارک ایسپر سےگزشتہ جمعرات کو پینٹاگون میں ایک تقریب کے دوران افغانستان سے فوجی انخلا سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔مارک ایسپر کے ترجمان جائنٹ چیفس چیئرمین جنرل مارک ملے اور امریکی سینٹرل کمان نے صدر ٹرمپ کے بیان پر تبصرہ کرنے سے معذرت کی ہے اور وائس آف امریکہ کو کہا ہے کہ اس حوالے سے وائٹ ہاو?س سے رابطہ کیا جائے۔ایک فوجی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ٹویٹ محض ابتدائی لفظ ہے تاہم ہر کوئی افغانستان سے فوجی انخلا کو تیز ہوتے دیکھ رہا ہے۔فوجی عہدیدار نے مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ کا آفس افغانستان سے فوجی انخلا سے متعلق پینٹاگون کی پالیسی ٹیم کی ہدایات کا منتظر ہے تاکہ مزید گائیڈ لائنز فراہم کی جا سکیں۔








