پشاور ۔12اکتوبر (اے پی پی):خیبرپختونخوا پولیس نے گزشتہ ہفتے شیخ کلی چارسدہ میں رونما ہونے والی جنسی زیادتی و قتل واقعے میں ملوث مجرم کی تمام شواہد اور سائنسی بنیادوں پر تصدیق کے بعد نشاندہی کر لی ہے۔پیر کے روز ڈی پی او آفس چارسدہ میں وزیر قانون سلطان محمد خان کے ہمراہ میڈیا کو بریف کرتے ہوئے وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم نے کہا …
زینب قوم کی بیٹی تھی، قاتل کی شناخت ہو گئی ہے‘ آج میڈیا کے سامنے پیش کیا جائےگا ۔ کامران بنگش

مزید خبریں
پشاور ۔12اکتوبر (اے پی پی):خیبرپختونخوا پولیس نے گزشتہ ہفتے شیخ کلی چارسدہ میں رونما ہونے والی جنسی زیادتی و قتل واقعے میں ملوث مجرم کی تمام شواہد اور سائنسی بنیادوں پر تصدیق کے بعد نشاندہی کر لی ہے۔پیر کے روز ڈی پی او آفس چارسدہ میں وزیر قانون سلطان محمد خان کے ہمراہ میڈیا کو بریف کرتے ہوئے وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم نے کہا کہ زینب قوم کی بیٹی تھی، قاتل کی شناخت ہو گئی ہے۔ جس کو آج میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے جدید خطوط پر تفتیش عمل مکمل کی ہے۔ چارسدہ پولیس کی کارکردگی بہترین رہی، جو قابل تعریف بھی ہے۔پولیس کاروائی کے متعلق مزید تفصیلات بتاتے ہوئے معاون خصوصی کامران بنگش نے کہا کہ پولیس نے تین دن کے اندر مرکزی ملزم تک پہنچ گئی تھی جس سے پولیس نے جدید خطوط پرتفتیش کی۔ مکمل سائنسی تصدیق کے بعد لعل محمد نامی شخص کے نام کی نشاندھی ہوگئی۔ ایک ہفتے کے اندر مجرم کو سلاخوں کے پیچھے لے آنا انتہائی بہترین کارکردگی کی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ وعدے کے مطابق مجرم کو جلد از جلد گرفتار کیا گیا۔ مردان رینج میں اب تک 15 کیسز سامنے آئے ہیں جن کے تمام مجرمان پکڑے گئے۔میڈیا کے توسط سے آگاہ کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش نے کہا کہ کوئی بھی مجرم خیبرپختونخوا پولیس سے بچ نہیں سکتا۔ عوام بھی جرائم کی روک تھام میں اپنی پولیس کا ساتھ دیں۔انہوں نے کہا کہ سکول، پولیس اور دیگر سطحوں پر ایسے درندوں سے آگاہی کے سیشنز ہونے چاہئےں۔قبل ازیں، چارسدہ پولیس نے مرکزی مجرم لعل محمد کو میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا۔زینب قتل واقعے پر ریمارکس دیتے ہوئے وزیر قانون سلطان محمد خان نے کہا کہ مذکورہ واقعے پر پوری قوم افسردہ ہے۔ حکومت و عوام کی مشترکہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان لمحہ بہ لمحہ کیس کی نگرانی کرتے رہے۔ جبکہ ڈی پی او چارسدہ اور تفتیشی ٹیم نے بھی بروقت اور برمحل کارروائیاں کیں۔پولیس کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیر قانون سلطان محمد نے کہا کہ مرکزی مجرم کا سراغ بروقت لگانے سے اندازہ کریں کہ ایسے کیسز کے سلسلے میں پولیس پیشہ ورانہ ہو چکی ہے۔ وزیراعلی اور پوری کابینہ مردان رینج کی پولیس کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ انہوں نے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عدالت سے مجرم کو قرار واقعی سزا دلوانے میں اس کیس کی پیروی سنجیدگی سے کریگی۔ مزید برآں حکومت نے چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ پر کام بھی مکمل کر لیا ہے۔وزیر قانون سلطان محمد نے میڈیا پرسنز کو بتایا کہ قانون سازی کے ذریعے قانون سے خامیاں نکال رہے ہیں کیونکہ ایسے درندوں سے نمٹنے کے لیے پولیس، عوام اور حکومت ایک پیج پر ہیں۔پریس بریفنگ میں موجود ڈی پی او محمد شعیب نے زینب قتل کیس کے حوالے سے کہا کہ مجرم تک پہنچنے کے لیے ٹوٹل 388 گھروں سے ڈیٹا اکٹھا گیا جبکہ مشتبہ افراد سے پروفیشنل طریقے سے پوچھ گچھ ہوئی۔ڈی پی او نے کہا 70,80 مشتبہ افراد کو شامل تفتیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مردان رینج میں اب تک جتنے بھی ایسے کیسز آئے ہیں، سب کیسز میں پولیس نے اصل مجرمان گرفتار کرا لیے ہیں جو قابل ستائش ہے۔








