مودی سرکارنے جموں وکشمیر کے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے، صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان کا آزاد جموں و کشمیر سٹیٹ اسمبلی کے عہدیداران سے خطاب

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مودی سرکار ہٹلر، نیتن یاہو اور گوبلز کے فلسفے اور نقش قدم پر چل رہی ہے اور طاقت کا بے جا استعمال کرتے ہوئے اُس نے جموں وکشمیر کے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے، پورا کشمیر ہندوستانی افواج کے محاصرے کی لپیٹ میں ہے اور پورے کشمیر کو ایک قید زنداں میں …

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مودی سرکار ہٹلر، نیتن یاہو اور گوبلز کے فلسفے اور نقش قدم پر چل رہی ہے اور طاقت کا بے جا استعمال کرتے ہوئے اُس نے جموں وکشمیر کے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے، پورا کشمیر ہندوستانی افواج کے محاصرے کی لپیٹ میں ہے اور پورے کشمیر کو ایک قید زنداں میں تبدیل کرکے رکھ دیا گیا ہے، نوجوان اٹھیں اور جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ہندوستانی مظالم کو پوری دنیا میں آشکار کریں، جس طرح 1947ءسے قبل یہاں برطانوی سامراج کے دور میں لوگوں کو سزا دینے کے لئے کالا پانی بھیجا جاتا تھا آج مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے تیرہ ہزار نوجوانوں کو اغواءکر کے انہیں بدنام زمانہ ہندوستانی جیلوں میں مقید کر دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو آزاد جموں و کشمیر سٹیٹ اسمبلی کے عہدیداران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس اجلاس سے سٹیٹ اسمبلی کے چیئرمین عمران خان، جنرل سیکرٹری شفیق احمد کیانی، اسمبلی کے سپیکر سہراب رازق ، اسمبلی کے قائد ایوان عمران علی چوہدری، اسمبلی کے قائد حزب اختلاف ذیشان دانش اور اسمبلی کے ترجمان عبدالعزیز اعوان ، عشاءاعجاز، سعود اعجاز، عدنان بیضاداور زوہیہ چوہدری نے بھی خطاب کیا۔ مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے لوگ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں وہ دین، ثقافت اور معاشرتی رشتوں میں ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ جغرافیائی طور پر شونٹر اور استور کا زمینی راستہ کھلنے کے بعد یہ لوگ مزید ایک دوسرے کے قریب آجائیں گے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بحیثیت چانسلر انہوں نے آزادکشمیر کی سرکاری جامعات میں گلگت بلتستان کے طلبا و طالبات کے لئے مختص نشستوں میں دوگنا اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ بننے کے بعد اور گزشتہ چند برسوں میں حکومت پاکستان نے بلوچستان کی ترقی کے حوالے سے جو اقدامات اٹھائے ہیں اُس سے بلوچستان میں خوشحالی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ بیرونی طاقتیں بلوچستان میں دہشت گردی اور انتہاءپسندی اور علیحدگی پسندی کو ہوا دے رہی تھیں لیکن اُن کے ناپاک عزائم خاک میں مل چکے ہیں۔ اسی طرح انشاءاﷲ گلگت بلتستان میں بھی لوگوں کو جائز حقوق ملیں گے اور وہاں بھی تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہو گا۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیر پر پاکستان اور آزادکشمیر کی تمام جماعتیں متحد و متفق ہیں اور وہ کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہیں۔ صدر نے کہا کہ حالیہ چند ہی مہینوں میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے قائدین نے مظفرآباد کا دورہ کیا جس میں وزیراعظم پاکستان، مسلم لیگ (ن) کے سربراہ شہباز شریف اور ان کے دیگر مرکزی قائدین، جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق، پیپلز پارٹی کی قیادت نے بھی کشمیر کاز کے حوالے سے آزادکشمیر کی قیادت اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ صدر مسعود خان نے مزید کہا کہ 5 اگست 2019ءکے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں صرف لاک ڈائون نہیں بلکہ کشمیر کا محاصرہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران 20 لاکھ کے قریب غیر ریاستی باشندوں کو مقبوضہ کشمیر میں لاکر آباد کیا جا چکا ہے اور انہیں سٹیٹ سبجیکٹ اور ڈومیسائل جاری کئے جا چکے ہیں۔ ان میں 16 لاکھ سابقہ ہندوستانی فوجی، اُن کے سینیٹری ورکر اور 1947ءکے ہندو مہاجرین شامل ہیں اور اسی طریقے سے 1.4لاکھ سول سرونٹ اور طلبا و طالبات بھی شامل ہیں۔ صدر نے کہا کہ ہندوستان نے 31 اکتوبر 2019ءکو مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کو تقسیم کرتے ہوئے دو یونین ٹریٹریز میں تبدیل کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ لداخ اور جموں وکشمیر کو براہ راست دہلی سرکار کنٹرول کرے گی اسی طرح یکم نومبر 2019ءکو ہندوستان نے ایسے نقشہ جات جاری کئے جس کے تحت انہوں نے پورے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی ہندوستان کا حصہ ظاہر کیا اور ان نقشوں کو انہوں نے گوگل اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو ارسال کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستانی اقدامات نہ صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ انسانی حقوق کے جنیوا کنونشن کی بھی صریحاً خلاف ورزی ہے جس پر بین الاقوامی برادری کو نوٹس لینا چاہئے اور ہندوستان پر دبائو ڈالنا چاہئے کہ وہ ان تمام اُٹھائے گئے اقدامات کو واپس لے۔ صدر نے ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو جس میں جنسی تشدد، ریپ، جبراً گمشدگیاں، نوجوانوں اور بچوں کا اغواءشامل ہے انہیں دنیا کے سامنے اٹھائیں۔ صدر نے کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطا ف وانی اور اُن کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا کہ وہ ہر سال جنیوا میں جا کر مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کے مسئلے کو انتہائی جاندار اور موثر طریقے سے اُٹھاتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ کے آئی آئی آر اور کے ایل سی اور ایوان صدر آزادکشمیر کے ساتھ رابطے میں رہیں اور مختلف شماریاتی ڈیٹا لے کر کشمیر کاز کے لئے کام کریں۔ تقریب کے آغاز میں ایک متفقہ قرار داد بھی منظور کی گئی جس میں مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی قبضے کی مذمت ، کشمیریوں کو حق خودارادیت دئیے جانے ، کشمیر میں ایک سال سے جاری ہندوستانی محاصرے کو ختم کرنے ، وہاں انسانی حقوق کی بحالی، حریت رہنمائوں اور تیرہ ہزار نوجوان بچوں کی رہائی اور گلگت بلتستان کا آئینی تشخص تبدیل کیے بغیر وہاں کے لوگوں کو سیاسی اور دیگر تمام حقوق دئیے جانے پر زور دیا گیا۔ تقریب کے آخر میں سٹیٹ اسمبلی کے عہدیداران کو اُن کی بہترین کارکردگی پر شیلڈز تقسیم کی گئیں۔

 

مزید خبریں