اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمہ تک بھارت کیساتھ مذاکرات خارج از امکان ہے۔جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارت کیساتھ ایسی صورتحال میں کوئی بامعنی مذاکرات ممکن ہی نہیں جہاں مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلسل انسانی حقوق پامال ہو رہی ہوں۔دو طرفہ روابط میں تیسرے …
مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے خاتمہ تک بھارت کیساتھ مذاکرات خارج از امکان ہیں، ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمہ تک بھارت کیساتھ مذاکرات خارج از امکان ہے۔جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارت کیساتھ ایسی صورتحال میں کوئی بامعنی مذاکرات ممکن ہی نہیں جہاں مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلسل انسانی حقوق پامال ہو رہی ہوں۔دو طرفہ روابط میں تیسرے فریق کی شمولیت سے متعلق ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ کشمیری اپنے مستقبل سے متعلق امور میں شامل ہوں۔ترجمان نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس آرمی پبلک سکول پشاور سانحہ میں بھارتی خفیہ ایجنسی کے ملوث ہونے سے متعلق تصدیق شدہ شواہد موجود ہیں،جسے عالمی برادری کیساتھ شیئر کر دیئے گئے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے بھارت سے اپنے آئین کے غیر قانونی 35اے آرٹیکل کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے،جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر کے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔اس غیر قانونی آرٹیکل کے ختم کرنے سے مقبوضہ وادی میں مدصفانہ استڈواب رائے کیلئے ساز گار ماحول قائم کیا جا سکتا ہے۔گزشتہ سال پانچ اگست کے بھارتی غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد اب تک بھارتی قابض فورسز نے ریاستی دہشت گردی میں 300 کشمیریوں کو شہید کر دیا ہے۔اس کے علاوہ 600سے زائد کشمیری نوجوانوں کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ترجمان نے کہا پاکستان کشمیریوں کی ماورائے عدالتی قتل اور رایستی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے پر بھارت کو زمہ دار ٹھہرایا جائے۔ترجمان نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی تیزی سے بگڑتی صورتحال کا نوٹس لیں۔








