کچھ قوتیں پاکستان میں امن نہیں دیکھناچاہتی،دہشت گردی کی حالیہ لہرپر قابوپالیں گے۔مخدوم شاہ محمودقریشی

ملتان ۔28اکتوبر (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ 11سال بعد پاکستان میں جرمن سرمایہ کاری ہوئی۔جرمنی کے ملتان میں سرمایاکاری کے فیصلے کو سراہتا ہوں۔جرمنی نے پاکستان کی معیشت کی بحالی کے لیئے سپورٹ کیا۔جس طرح جرمن پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہے ، اسی طرح امید ہے دیگر یورپی ممالک بھی پاکستان پر اعتماد کریں گے۔غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان کی معاشی بحالی …

ملتان ۔28اکتوبر (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ 11سال بعد پاکستان میں جرمن سرمایہ کاری ہوئی۔جرمنی کے ملتان میں سرمایاکاری کے فیصلے کو سراہتا ہوں۔جرمنی نے پاکستان کی معیشت کی بحالی کے لیئے سپورٹ کیا۔جس طرح جرمن پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہے ، اسی طرح امید ہے دیگر یورپی ممالک بھی پاکستان پر اعتماد کریں گے۔غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان کی معاشی بحالی کا ثبوت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ملتان میں جرمنی کی سٹور چین میٹرو کیش اینڈ کیری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پاکستان میں جرمنی کے ایچ۔ ای برن ہارڈ سکیلگ ( H.E Bernhard Schlagheck ) ‘ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری خزانہ مخدومزادہ زین حسین قریشی‘ صوبائی معاون خصوصی حاجی جاوید اختر انصاری‘ صوبائی پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات ندیم قریشی‘ چیئرمین ایم ڈی اے میاں جمیل ‘ خواجہ جلال الدین رومی‘ خواجہ اقبال ‘ خواجہ مسعود‘ خواجہ انیس سمیت معززین شہر و صنعت کاروں کی ایک بہت بڑی تعداد اس موقع پر موجود تھی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کو جی ایس پی پلس دلانے کے لیئے جرمنی نے اہم کردار ادا کیا۔ہمیشہ سپورٹ فراہم کرنے پر جرمن حکومت کے شکر گزار ہیں۔ میں نے یکم نومبر کو سرکاری دورے پر جرمنی جانا ہے جرمنی کو اس لیئے منتخب کیا کہ پاکستان کے لیئے جرمنی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ہم جرمنی کے شہریوں کو پاکستان آمد پر ویزے دے رہے ہیں۔اس کا مقصد سرمایہ کاروں کو اپنی جانب راغب کرنا۔ جرمن سرمایہ کاروں کو پاکستان میں خوش آمدید کہیں گے۔سی پیک کی وجہ سے پاکستان بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔21 ویں صدی میں سیاسی تعلقات کے ساتھ معاشی تعلقات بھی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ ہم سرمایہ کار دوست پالیسیاں بنا رہے ہیں۔ہم ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے معاشی سفارت کاری پر بھی سرگرم عمل ہیں۔یورپی ممالک کے سفراءکو فارن آفس بلایا ، تاکہ نئے مواقع تلاش کر سکیں۔ انہوں نے کہا افغانستان میں امن کا عمل چل رہا ہے۔ افغان امن عمل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔دہشت گردی سے ہماری معیشت کو نقصان پہنچا۔ اکٹھے مل کر ہم نے دہشت گردی کو شکست دی۔آنے والے دنوں میں امن زیادہ ہو گاتو زیادہ سرمایہ کاری ہو گی۔انہوں نے کہا ماضی میں جنوبی پنجاب کوترقیاتی منصوبوںنظر انداز کیا گیا۔لیکن اب یہاں معاشی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں ۔ اس علاقے میں ٹیلنٹ ہے ، انڈسٹریز لگ رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں ملتان کمرشل بزنسس کا مرکز ہو گا۔انہوں نے کہا ہمارے ملک میں زیادہ طرح آبادی نوجوانوں کی ہے۔کوئی بھی گورنمنٹ طاقت میں آئے گی تو اس کے لیئے سرکاری ملازمت دینااوران کو تنخواہیں دینے کا مسئلہ ہو گا۔ اس لیئے ہم نجی سیکٹر پر توجہ دے رہے، تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔انہوں نے کہا گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے حکومت پاکستان عوام کے جذبات سے باخبر اور ترجمانی کر رہی ہے۔گستاخانہ خاکوں پر مسلم امہ میں غم و غصہ ہے۔ہم نے اسمبلی میں گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر قراداد منظور کی گئی ہے۔ جبکہ حکومت پاکستان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں مشترکہ لائحہ عمل سامنے لایا جائے گا۔سٹور کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کوئٹہ اور پشاور میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں جن پر ہم سنجیدہ بھی ہیں اور رنجیدہ بھی ۔کچھ ایسی قوتیں موجود ہیں جو پاکستان میں امن نہیں دیکھنا چاہتیں۔ دہشت گردوں کا مقصد ملکی مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔دہشت گردی کی لہر پر وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوںکو احتیاطی تدابیر پر عمل کی ہدایت کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں دہشت گردوں کے سہولت کار ہوتے ہیں۔پاکستان میں ہونے والے واقعات سہولت کاروں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ قوم نے پہلے بھی دہشت گردی پر قابو پایا آئندہ بھی انہیں شکست دیں گے۔انہوں نے کہا اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مہنگائی ہے۔ لیکن حکومت اس پر قابو پانے کیلئے بھر پور اقدامات کررہی ہے۔فلور ملوں کیلئے گندم کا کوٹہ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔سندھ میں بھی آٹے کی قیمتوں کو قابو پانے کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ آٹا اور چینی کا بحران ختم کرنے کیلئے گندم اور چینی کی امپورٹ کی جا رہی ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جرمنی کے سفیر ایچ۔ ای برن ہارڈ سکیلگ ( H.E Bernhard Schlagheck ) نے کہا کہ پوری دنیا کورونا وائرس کی وباءسے لڑ رہی ہے لیکن ایسے میں ہم معاشی سرگرمیاں بحال رکھے ہوئے ہیں ، جرمنی پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس مقصد کیلئے جرمنی پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے۔جرمنی اور پاکستان کے تعلقات دوستانہ اور کئی دہائیوں پر مشتمل ہیں۔ جو انشاءاللہ بتدریج مضبوط ہونگے۔ قبل ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جرمنی کے سفیر کے ہمراہ ملتان میں میٹرو کیش اینڈ کیری سٹور کا افتتا ح کیا ۔ انہوں نے سٹور کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا جہاں سٹور انتظامیہ نے انہیں صارفین کو فراہم کی جانے والی مصنوعات بارے بتایا۔

مزید خبریں