اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کورونا وائرس کے عرصہ میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور افغانستان کے لئے درآمدی مال پر ڈیمرج کے خاتمہ کے معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنے کی ہدایت کی ہے، اجلاس میں ساحلی علاقوں کے سروے کے لے وزارت دفاع کے لئے 10 کروڑ 94 لاکھ 70 ہزار روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی، اجلاس میں ٹیلی …
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور افغانستان کے لئے درآمدی مال پر ڈیمرج کے خاتمہ کے معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنے کی ہدایت، ادارہ جاتی اصلاحات کے لئے ذیلی کمیٹی قائم

مزید خبریں
اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کورونا وائرس کے عرصہ میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور افغانستان کے لئے درآمدی مال پر ڈیمرج کے خاتمہ کے معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنے کی ہدایت کی ہے، اجلاس میں ساحلی علاقوں کے سروے کے لے وزارت دفاع کے لئے 10 کروڑ 94 لاکھ 70 ہزار روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی، اجلاس میں ٹیلی کام سیکٹر کو بعض ٹیکسوں میں چھوٹ کے ذرےعے سہولیات کا جائزہ لینے کے لئے ذیلی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔اقتصادی رابطہ کمیٹی کااجلاس بدھ کو یہاں وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ساحلی علاقوں میں سروے کے ضمن میں وزارت دفاع کے لئے 10 کروڑ 94 لاکھ 70 ہزار روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی ۔ یہ رقم وزارت میری ٹائم افیئرز نے سرنڈر کی ہے۔پاکستان آرمی نے سروے میں معاونت کی پیشکش کی تھی۔ اجلاس میں وزارت میری ٹائم افیئرز کی جانب سے افغان ٹرانزٹ کارگو اور افغانستان کے لئے جانے والے کنٹینرز کے لئے ڈیمرج ختم کرنے کی سمری پیش کی گئی۔ قبل ازیں حکومت نے 22 مارچ سے لے کر 30 ستمبر 2020تک کی مدت میں کورونا وائرس کی وباکے تناظر میں افغان ٹرانزٹ کے لئے 75 فیصد ڈیمرج ختم کرنے کے ضمن میں ٹرمینل آپریٹر کو ہدایت جاری کرنے کافیصلہ کیا تھا۔ اس میں افغان ٹرانزٹ اور افغانستان کے لئے درآمد کنندگان سے حاصل کردہ ڈیمرج چارجز کی وصولی بھی شامل ہے۔ میری ٹائم افیئرز کے وزیر نے ٹرمینل آپریٹر کو 5اکتوبر 2020 سے قبل 75 فیصد ڈیمرج معاف کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ ٹرمینل آپریٹر نے وزارت کی درخواست پر عملدرآمد کرنے سے معذرت کی تھی اور یہ معاملہ ای سی سی کے اجلاس میں لایا گیا تھا۔ ای سی سی نے ہدایت کی کہ ٹرمینل آپریٹرز کے ساتھ کمیٹی بات چیت کا سلسلہ جاری رکھے گی تاکہ معاملے کا خوش اسلوبی سے حل نکالا جاسکے۔ ٹیلی کام سیکٹر کو بعض ٹیکسوں کی معافی کی صورت میں سہولیات فراہم کرنے کی ضمن میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اس حوالے سے تجاویز کی منظوری دی جائے۔ ای سی سی نے وزیرا عظم کے مشیر برائے خزانہ حفیظ شیخ، ادارہ جاتی اصلاحات کے لئے وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر عشرت حسین، وزیرصنعت و پیداوار حماد اظہر اور مشیرتجارت عبدالرزاق دائود پر مشتمل ذیلی کمیٹی قائم کردی ہے۔ تجاویز کی حتمی منظوری کے ضمن میں ایف بی آر کے رد عمل کے مطابق تجاویزاور سفارشات میں بہتری لائے گی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارت توانائی کی سمری پر سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو رحمن ویل سے 38 ایم ایم سی ایف ڈی گیس مختص کرنے کی منظوری دی تاہم اس کے لئے ضابطہ جاتی منظوری کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ گیس کی قیمت کا تعین پٹرولیم پالیسی کے مطابق ہو گا۔ ای سی سی نے تاوانیر ایران کے ساتھ 104 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کے معاہدہ کی تجدید کی منظوری بھی دی تاہم وزارت قانون کے جائزے سے اس کو مشروط کر دیا گیا ہے۔ وزارت قانون سے منظوری کی صورت میں یہ معاہدہ 31 دسمبر 2021 تک نافذ العمل رہے گا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد، مشیر پٹرولیم ندیم بابر، مشیر تجارت عبدالرزاق دائود اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لئے وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر عشرت حسین نے شرکت کی۔








